خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 72

72 خطبه جمعه فرموده 15 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم آتا۔یہ دین کو درست کرتی ہے۔اخلاق کو درست کرتی ہے۔دنیا کو درست کرتی ہے۔نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے اور لذات جسمانی کے لئے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور یہ مفت کا بہشت ہے جو ا سے ملتا ہے۔قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے۔ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں ہے بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے۔اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے۔کہ ایک بندے کا اور خدا کا جو ہمیشہ کا تعلق ہے اس کو قائم رکھنے کے لئے نماز بنائی ہے۔اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے۔جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے۔جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے۔ایسا ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔دروازہ بند کر کے دعا کرنی چاہئے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہوجو تعلق عبودیت کا ربوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پُر ہے جس کی تفصیل نہیں ہوسکتی۔جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 592-591 جدید ایڈیشن) یعنی اگر بندے اور رب کا تعلق نہیں ہے تو انسان اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔دوسری بات، یہ افسوسناک خبر بھی ہر احمدی کے علم میں ہے جو ہمارے دلوں کو زخمی کرنے والی بھی ہے۔اکثر نے سنی ہوگی ، اخباروں میں بھی پڑھی ہوگی۔ڈنمارک کی اخبار نے ایک ظالمانہ اور گھٹیا سوچ کا پھر مظاہرہ کیا ہے۔اپنے دل کا گند اور اندرونی کینے اور بغض کا پھر اظہار کیا ہے اور بہانہ یہ کیا کہ ہم یہ بدلے لے رہے ہیں کہ پولیس نے ان تین لوگوں کو گر فتار کیا ہے جو ایک کارٹون بنانے والے کو مارنا چاہتے تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کر کے جو عجیب شکلیں بنائی تھیں۔جب پولیس نے پکڑ لیا ہے، اگر یہ الزام صحیح ہے تو پھر قانون سزا دے رہا ہے۔پھر ان کا کیا جواز ہے کہ باقی مسلمان امت کا بھی دل دکھائیں ، دوسرے مسلمانوں کا بھی دل دکھا ئیں؟ کہتے ہیں کہ ہم بڑے انصاف کے علمبردار ہیں۔کیا یہ انصاف ہے کہ جرم کوئی کرے اور سزا دوسروں کو دی جائے ؟ اگر ان کا یہی انصاف ہے تو پھر ایک منصف اَحكَمُ الْحَارِ کمین آسمان پر بھی بیٹھا ہے جو اس کا ئنات کا مالک ہے۔وہ بھی پھراپنا انصاف کرے گا جو غالب بھی ہے، ذُو انتقام بھی ہے۔یہ ایک اصولی بات اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے کہ جو بار بار ایک جرم کرنے والے ہوں اور باز نہ آتے ہوں پھر وہ ان سے انتقام بھی لے سکتا ہے۔۔ان کے لئے جو اس قسم کے گھناؤنے فعل کرنے والے ہیں ، غلط حرکات کرنے والے ہیں ان کے لئے تو وہ کافی ہے۔کس طرح اس نے پکڑنا ہے وہ خدا بہتر جانتا ہے۔ہمارا کام انہیں سمجھانا تھا۔اتمام حجت کرنا تھی جو ہم نے کر دی اور خوب اچھی طرح کر دی۔مضمون بھی لکھے۔اخباروں میں خط بھی لکھے ، ان لوگوں کو ملے بھی۔ان سے میٹنگز بھی کیں۔تب بھی اگر ان لوگوں نے باز نہیں آنا تو ہمیں اب معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ نا چاہئے۔ہمارا کام یہ ہے کہ خدا کے آگے جھکیں اور پہلے سے بڑھ کر اس رسول کے پاک اسوہ کو قائم کرنے کی اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کی کوشش کریں جو ہمارے لئے آنحضرت ﷺ نے قائم فرمایا۔ہمارا ایک مولیٰ ہے وہ مولیٰ جس کی پہچان ہمیں آنحضرت ﷺ نے کروائی ہے۔وہ مولیٰ جس کو سب سے زیادہ آنحضرت مے پیارے ہیں۔وہ سب قدرتوں والا ہے۔وہ خود اپنی قدرت دکھائے گا