خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 67

خطبات مسرور جلد ششم 67 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 2008 جس طرح کھیت کی جڑی بوٹیاں فصل کو دبا دیتی ہیں یہ بدیاں بھی پھر نیکیوں کو دبا دیں گی۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی اس طرح حفاظت کریں اور انہیں مضبوط جڑوں پر قائم کر دیں کہ پھر یہ شجر سایہ دار بن کر، ایسا درخت بن کر جو سایہ دار بھی ہو اور پھل پھول بھی دیتا ہو، ہر برائی سے ہماری حفاظت کرے۔پس پہلے نمازوں کے قیام کی کوشش ہو گی۔پھر نمازیں ہمیں نیکیوں پر قائم کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک احمدی کی شناخت یہی بتائی ہے۔پس ہر احمدی خود اپنے جائزے لے، اپنے گھروں کے جائزے لے کہ کیا ہم اپنی اس شناخت کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس طرح پہچانے جاتے ہیں کہ عابد بھی ہیں اور اعلیٰ اخلاق بھی اپنے اندر رکھے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کو پورا کرنے والے ہیں۔یہ جائزے جو ہم لیں گے تو یہ جائزے یقیناً ہمارے تزکیہ کے معیار کو اونچا کرنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ : نماز ہی ایک ایسی نیکی ہے جس کے بجالانے سے شیطانی کمزوری دور ہوتی ہے اور اسی کا نام دعا ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسان اس میں کمزور رہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس قدر اصلاح اپنی کرے گا وہ اسی ذریعہ سے کرے گا۔پس اس کے واسطے پاک صاف ہونا شرط ہے۔جب تک گندگی انسان میں ہوتی ہے اُس وقت تک شیطان اس البدر جلد 2 نمبر 4 مورخہ 13 فروری 1903 صفحہ 27) سے محبت کرتا ہے“۔پھر فرماتے ہیں: ”اپنے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت و عظمت کا سلسلہ جاری رکھیں اور اس کے لئے نماز سے بڑھ کر کوئی شی نہیں ہے کیونکہ روزے تو ایک سال کے بعد آتے ہیں اور زکوۃ صاحب مال کو دینی پڑتی ہے مگر نماز ہے کہ ہر ایک ( حیثیت کے آدمی کو ) پانچوں وقت ادا کرنی پڑتی ہے۔اسے ہرگز ضائع نہ کریں۔اسے بار بار پڑھو اور اس خیال سے پڑھو کہ میں ایسی طاقت والے کے سامنے کھڑا ہوں کہ اگر اس کا ارادہ ہو تو ابھی قبول کر لیوے اسی حالت میں بلکہ اسی ساعت میں بلکہ اسی سیکنڈ میں۔کیونکہ دوسرے دنیوی حاکم تو خزانوں کے محتاج ہیں اور ان کو فکر ہوتی ہے کہ خزانہ خالی نہ ہو جاوے اور ناداری کا ان کو فکر لگارہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا خزانہ ہر وقت بھرا بھرایا ہے۔جب اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو صرف یقین کی حاجت ہوتی ہے کہ اسے اس امر پر یقین ہو کہ میں ایک سمیع علیم اور خبیر اور قادر ہستی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔اگر اسے لہر آ جاوے تو ابھی دے دیوے۔بڑی تضرّر ع سے دعا کرے۔نا امیداور بدظن ہرگز نہ ہو دے۔اور اگر اس طرح کرے تو (اس راحت کو ) جلدی دیکھ لے گا اور خدا تعالیٰ کے اور اور فضل بھی شامل حال ہوں گے اور خود خدا بھی ملے گا۔تو یہ طریق ہے جس پر کار بند ہونا چاہئے۔مگر ظالم فاسق کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے لا پرواہ ہے اور خدا تعالیٰ بھی اس سے لا پرواہ ہے۔ایک بیٹا اگر باپ کی پرواہ نہ کرے اور نا خلف ہو تو باپ کو بھی پرواہ نہیں ہوتی تو خدا کو کیوں ہو“۔( البدر جلد 2 نمبر 4 مورخہ 13 فروری 1903 ء صفحہ 28) پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا شیطان کے خلاف جنگ کرنے کے لئے جس ہتھیار