خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 62

62 خطبه جمعه فرموده 8 فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔اور جبکہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں یا اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا عتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے۔اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفتہ اللہ ہوں۔مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتار ہا ہے۔کوئی نہیں جو میرے مقابل پر ٹھہر سکے۔کیونکہ خدا کی تائید اُن کے ساتھ نہیں۔اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں ، مگر ان معنوں طور پر اور نہ پر ،نگران سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اُس کا نام پا کر اُس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں ، مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔سواب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“ (ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 211-210) پس کیا اس کے بعد بھی کسی قسم کا ابہام رہ جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آپ کو خدا سے حکم پا کر کیا کہتے ہیں۔واضح اعلان فرما رہے ہیں کہ میں نبی ہوں۔میں بصد ادب اور عزت اپنے ان بھٹکے ہوئے بھائیوں سے کہتا ہوں کہ آؤ اس روحانی انقلاب میں شامل ہو جاؤ جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی موعود اور ظلی نبی بنا کر بھیجا ہے۔وہ مسیح اور مہدی جس نے آنحضرت ﷺ کی غلامی میں اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے اور پہنچایا۔جس کو خدا نے بڑے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ ان سب مخالفتوں کے باوجود میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔آج اس وعدے کو صرف وہی لوگ پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں جو آپ کو نبی مانتے ہوئے آپ کے بعد خلافت سے منسلک ہیں۔یہ پیغام آج ہواؤں کے دوش پر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہا ہے۔پس آج انہیں کی جیت ہے جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ صحیح و مہدی اور نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ خود اپنے نبی کی تائید فرماتے ہوئے پیغام پہنچانے کے معجزات دکھا رہا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو اس کو روک سکے۔اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا، اس میں ہمارے لئے ایک یہ پیغام بھی ہے کہ راستے کی روکیں بھی آئیں گی۔مخالفتوں کی آندھیاں بھی چلیں گی۔دائیں بائیں سے آگ کے شعلے بھی بلند ہوں گے۔حکومتیں بھی روکیں ڈالنے کی کوشش کریں گی لیکن میں جو عزیز ، غالب اور تمام قدرتوں کا مالک خدا ہوں، تمہیں تسلی دیتا ہوں کہ اے مسیح ومہدی! تجھے بھی تسلی دیتا ہوں اور تیرے ماننے والوں کو بھی تسلی دیتا ہوں کہ تو مجھ سے ہے اور میرے پیغام کو پھیلانے کے لئے کوشاں ہے اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میری تائیدات ہمیشہ تیرے ساتھ رہیں گی اور میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ایک جگہ اس تسلی کا اظہار کرتے ہوئے آپ کو الہاما اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔لَا تَخَفْ إِنَّنِيْ مَعَكَ وَمَاشٍ مَعَ مَشْيِكَ۔أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةٍ لَا يَعْلَمُ الْخَلْقُ وَجَدْتُكَ مَا وَجَدْتُكَ إِنِّي مُهِيِّنٌ مَنْ اَرَادَاهَا نَتَكَ