خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 56
56 66 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک شخص آخری زمانہ میں فارسی الاصل پیدا ہو گا۔اس زمانے میں جس کی نسبت لکھا گیا ہے کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جائے گا یہی وہ زمانہ ہے جو سیح موعود کا زمانہ ہے اور یہ فارسی الاصل وہی ہے جس کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ صلیبی حملہ جس کے توڑنے کے لئے مسیح موعود کو آنا چاہئے وہ حملہ ایمان پر ہی ہے اور یہ تمام آثار صلیبی حملہ کے زمانہ کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔اور لکھا ہے کہ اس حملے کا لوگوں کے ایمان پر بہت برا اثر ہوگا۔وہی حملہ ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دجالی حملہ کہتے ہیں۔آثار میں ہے کہ اس دجال کے حملہ کے وقت بہت سے نادان خدائے لاشریک کو چھوڑ دیں گے اور بہت سے لوگوں کی ایمانی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی اور مسیح موعود کا بڑا بھاری کام تجدید ایمان ہوگا کیونکہ حملہ ایمان پر ہے اور حدیث لَوْ كَانَ الْإِيْمَان سے جو شخص فارسی الاصل کی نسبت ہے یہ بات ثابت ہے کہ وہ فارسی الاصل ایمان کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے آئے گا۔۔پھر آپ فرماتے ہیں سوچ کر دیکھو کہ تیرہ سو برس میں ایسا زمانہ منہاج نبوت کا اور کس نے پایا۔اس زمانے میں جس میں ہماری جماعت پیدا کی گئی ہے کئی وجوہ سے اس جماعت کو صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشابہت ہے۔وہ معجزات اور نشانوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے دیکھا۔وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں اور تازہ بتازہ تائیدات سے نور اور یقین پاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے پایا۔وہ خدا کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھے اور ہنسی اور لعن طعن اور طرح طرح کی دل آزاری اور بدزبانی اور قطع رحم وغیرہ کا صدمہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ صحابہ نے اٹھایا۔وہ خدا کے کھلے کھلے نشانوں اور آسمانی مددوں اور حکمت کی تعلیم سے پاک زندگی حاصل کرتے جاتے ہیں جیسا کہ صحابہ نے حاصل کی۔بہتیرے ان میں سے ہیں کہ نماز میں روتے اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم روتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں جن کو سچی خوا ہیں آتی ہیں اور الہام الہی سے مشرف ہوتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔بہتیرے ان میں ایسے ہیں کہ اپنے محنت سے کمائے ہوئے مالوں کو محض خدا تعالیٰ کی مرضات کے لئے ہمارے سلسلہ میں خرچ کرتے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم خرچ کرتے تھے۔ان میں ایسے لوگ کئی پاؤ گے کہ جو موت کو یا در کھتے اور دلوں کے نرم اور کچی تقویٰ پر قدم ماررہے ہیں جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سیرت تھی۔وہ خدا کا گروہ ہے جن کو خدا آپ سنبھال رہا ہے اور دن بدن ان کے دلوں کو پاک کر رہا ہے اور ان کے سینوں کو ایمانی حکمتوں سے بھر رہا ہے اور آسمانی نشانوں سے ان کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے جیسا کہ صحابہ کو کھینچتا تھا۔غرض اس جماعت میں وہ ساری علامتیں پائی جاتی ہیں جو اخرین مِنْهُمْ کے لفظ سے مفہوم ہورہی ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ ایک دن پورا ہوتا۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 304-307) پس یہ جو انقلاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے اس کو جاری رکھنا جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے۔نہیں تو ہم بھی اسی طرح گناہگار ٹھہریں گے جس طرح پہلے ایمان کو ضائع کرنے والے ٹھہرے تھے۔لوگ تو انشاء اللہ پیدا ہوتے رہیں گے جو اس پیغام، کتاب اور تعلیم کو اپنے پر لا گو بھی کریں گے لیکن ہم میں سے ہر فرد کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ کبھی اس تعلیم سے روگردانی کرنے والے نہ ہوں اور کبھی اپنے دلوں کی پاکیزگی کو ختم کرنے والے نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شماره 8 مورخہ 22 تا 28 فروری 2008 صفحہ 5 تا8)