خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 53
53 خطبه جمعه فرموده یکم فروری 2008 خطبات مسرور جلد ششم کتاب اتری جن میں ایسی تعلیم بھی ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔اس نبی کی تعلیم میں ایسی باتیں بھی ہیں جو دوسری پرانی تعلیمات سے زائد ہیں۔بعض ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کا زمانے کے ساتھ ساتھ انسان کو ادراک ہوتا ہے، پتہ لگتا ہے، ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں سے بعض باتوں کا میں گزشتہ خطبوں میں ذکر کر چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں محکمات اور متشابہات کا ذکر کیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ يَاتُ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأَخَرُ مُتَشَابِهَا ( آل عمران : 8 )۔یعنی وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس کی بعض آیتیں تو محکم آیتیں ہیں جو اس کتاب کی جڑ ہیں اور کچھ اور ہیں جو متشابہ ہیں۔پس مخکم آیات دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ وہ باتیں بھی میں نے اتاری ہیں جنہیں تم پہلے نہ جانتے تھے اور وہ باتیں بھی ہیں جو پہلی شریعتوں میں آبھی چکی ہیں۔بعض ایسی ہیں جو واضح ہیں ، بعض ایسی ہیں جن پر سوچنے کی ضرورت ہے۔محکم کے معانی لغتوں میں یہ لکھے ہیں کہ جو کسی بھی قسم کی تبدیلی یا حریف سے محفوظ کر دی گئی ہو۔یہ محکم ہے۔دوسری جس میں کسی بھی قسم کے ابہام کا شائبہ نہ ہو۔تیسری بات جو معنوی لحاظ سے اور اپنی شوکت کے لحاظ سے فیصلہ کن ہو تو یہ محکمت ہیں۔اور متشابہ وہ چیز کہلاتی ہیں جس کے مختلف معانی کئے جا سکیں۔یا جس کا کچھ حصہ دوسری ویسی اسی طرح کی چیزوں سے مشابہ ہو۔اب جو تز کیہ سے عاری ہیں وہ اس تعلیم کے حقیقی پیغام کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔پھر اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ جس کے حقیقی معانی مخکم احکامات کے خلاف نہ ہوں۔متشابہ کے یہ معنی بھی ہیں کہ بعض دفعہ بعض ظاہری الفاظ شبہ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس کے جو حقیقی معانی ہیں وہ مخگم احکامات جو قرآن کریم کی جڑ ہیں ان کے خلاف نہیں ہونے چاہئیں۔اگر ان کے خلاف جاتے ہیں تو پھر اس کی وجہ تلاش کرنی ہوگی۔اس لئے ان متشابہات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کی جائے جو محکم احکامات سے تطابق رکھتے ہیں۔متشابہ کا بھی یہی مطلب ہے کہ بغیر حقیقی غور وفکر کے صحیح طریق سے سمجھ نہیں آ سکتے اس کے لئے پھر دلوں کو پاک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔پس وہ عزیز خدا جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے ایسے تزکیہ شدوں کے دلوں کے دروازے کھولتا اور انہیں حکمت کے موتی اکٹھے کرنے کی توفیق دیتا ہے۔تو یہ عظیم رسول جو قیامت تک کے زمانے کے لئے مبعوث ہوا اس کی تعلیم کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے انتظام فرمایا ہے جیسا کہ میں پہلے ایک خطبہ میں یہاں بیان کر چکا ہوں۔اس تعلیم کو بدلنے کی کوشش کی گئی لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔اس مرگئی اعظم کی اتباع میں ہر صدی میں مجدد آتے رہے اور ان آیات وتعلیم کے ذریعہ سے تزکیہ کا کام کرتے رہے۔علماء اور فقہا پیدا ہوتے رہے جو احکامات کی وضاحت کرتے رہے اور حکمت سکھاتے رہے۔آجکل کے نام نہاد علماء کی طرح نہیں جو بے تکی باتیں کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ فیصل آباد میں، یہ 1974ء کی بات ہے ، ایک مسجد سے مولوی صاحب سورۃ اخلاص پڑھ کے خطبہ دے رہے تھے ، قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ کے بعد انہوں نے اس کی تشریح یہ کی تھی کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی جھوٹے ہیں، ( یا اس نے مرزائی کہا تھا )۔اگر کوئی ثابت ہوا ہے تو یہ نتیجہ تو نکلتا ہے کہ خدا کا بیٹا بنانے والے غلط اور جھوٹے ہیں یا یہ نتیجہ تو نکالا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ جو قبروں کو پوجنے والے ہیں اور غلط قسم کی پیر پرستی میں مبتلا ہیں، یہ جھوٹے ہیں۔لیکن ہم تو اس مرگی کے عاشق صادق کو ماننے والے ہیں جو تو حید کا پھیلانے والا تھا۔اور جس کے ماننے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے الہاما یہ پیغام دیا تھا کہ خُذُوا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا ابْنَاءَ الْفَارِس که توحيد کو پکڑو، تو حید کو پکڑو، اے فارس کے بیٹو۔( تذکرۃ صفحہ 197 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ )