خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد ششم 47 خطبه جمعه فرمودہ 25 جنوری 2008 پڑنے والا ہو اور اس تصور نے ہی آپ کو بے چین کر دیا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس لعنت سے ہمیشہ بچنے کی توفیق دے اور اپنے دلوں کا حقیقی تزکیہ کرنے والا بنائے۔تیسری بات جو آجکل کا مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہے جیسا کہ میں نے کہا وہ قرضوں کی واپسی ہے۔لوگ ضرورت ہو تو قرض لے لیتے ہیں مگر واپسی پر بہت لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔قرض لینے سے پہلے جس شخص سے قرض مانگا جارہا ہو۔اس سے زیادہ نیک اور پر خلوص دل رکھنے والا اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ نیکیوں اور خوبیوں کا وہ مالک ہوتا ہے۔لیکن جب اس کی طرف سے واپسی کا مطالبہ ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خبیث اور بددماغ اور ظالم شخص کوئی نہیں ہوتا۔تو مومن کا تو یہ شیوہ نہیں ہے۔پاک دل کی خواہش رکھنے والوں کا تو یہ شیوہ نہیں ہے۔اس عظیم رسول اور مزکی کی طرف منسوب ہونے والوں کا تو یہ شیوہ نہیں ہے۔پس ہمیں وہی راستے اختیار کرنے چاہئیں جو اس مزرگی نے اپنے اسوہ کے طور پر ہمارے سامنے پیش فرمائے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت مہ کی خدمت میں آیا اور آپ سے قرض ادا کرنے کا تقاضا کیا اور بڑی گستاخی سے پیش آیا۔آپ کے صحابہ کو بڑا غصہ آیا اور اسے ڈانٹنے لگے۔حضور نے فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہو کیونکہ جس نے لینا ہو وہ کچھ نہ کچھ کہنے کا بھی حق رکھتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا: اسے اس عمر کا جانور دے دو جس عمر کا اس نے وصول کرنا ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ اس وقت تو اس سے بڑی عمر کا جانور موجود ہے۔آپ نے فرمایا: وہی دے دو کیونکہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنا قرض زیادہ عمدہ اور اچھی صورت میں ادا کرتا ہے۔( صحیح بخاری کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ فی قضاء الديون حدیث نمبر 2305) پس یہ ہے اسوہ جس کے مطابق قرض ادا کرنے والے کو قرض ادا کرنا چاہئے۔ہاں اگر حالات ایسے ہوں کہ قرض ادا نہ کر سکیں تو پھر احسن رنگ میں مہلت مانگ لینی چاہئے یا پھر کوئی ضمانت دینی چاہئے۔اور ایک مومن قرض دینے والے کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ مہلت کی یہ بات مان لے اور ضمانت مان لے تا کہ معاشرے سے فتنہ وفساد ختم ہو۔دونوں طرف کے دلوں کی رنجشیں اور کدورتیں دور ہوں اور پاک دل رہیں اور یہی اخلاق ہیں جو معاشرے میں دلوں کی پاکیزگی کا باعث بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم رسول اور مرگی کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى ( الاعلیٰ: 15)۔یعنی وہ کامیاب ہو گیا جو پاک ہوا۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں پاک لوگوں میں شمار کرتا رہے۔آمین الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 7 مورخہ 15 تا 21 فروری 2008 صفحہ 8-5)