خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد ششم 46 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 نیکیاں جو ہیں وہ حسد سے بالکل ختم ہو جاتی ہیں جل کے راکھ ہو جاتی ہیں۔پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، بے رخی اور بے تعلقی اختیار نہ کرو با ہمی تعلقات نہ توڑو، بلکہ اللہ تعالی کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو، کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے اور اس سے قطع تعلق کر۔( مسند احمد جلد نمبر 4 مسند انس بن مالک حدیث نمبر 13084 عالم الكتب بيروت لبنان 1998) ے۔یہ چیزیں ہیں جو دلوں میں پاکیزگی پیدا کرتی ہیں۔دلوں کی پاکیزگی اگر قائم رکھنی ہے۔اگر اپنی عبادات سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔اس مزکی کی تعلیم سے فائدہ اٹھانا ہے تو حسد سے بچنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہر شخص اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی کرنے کا عہد کرے تو حسد پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض بظاہر بڑے اچھے نظر آنے والے جو لوگ ہیں ان میں بھی دوسروں کے لئے حسد ہوتا ہے جس کی آگ میں وہ آپ بھی جل رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔جتنا وقت ایسے لوگ حسد کرنے اور چالا کیوں کے سوچنے میں لگاتے ہیں کہ دوسروں کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے اتنا وقت اگر وہ تعمیری سوچ میں لگائیں ، دعاؤں میں لگائیں تو شاید حسد سے بچنے اور مسابقت کی روح کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں سے زیاد ہ آگے بڑھا دے اور جلدی آگے بڑھا دے۔پھر دوسری بات جھوٹ ہے۔اس بارے میں بھی میں اکثر کہتا رہتا ہوں۔ہر قسم کی غلط بیانی سے بچنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق جھوٹ بھی شرک کے قریب کر دیتا ہے۔پس اس سے بچنا بھی ایک مومن کے لئے ، ایک ایسے شخص کے لئے جواپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہوا نتہائی ضروری ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہیں ی اختیار کرنا چاہئے کیونکہ بچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔انسان بیچ بولتا ہے اور سوچ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق کہلاتا ہے۔صدیق لکھا جاتا ہے۔ہمیں جھوٹ سے بچنا چاہئے کیونکہ جھوٹ فسق و فجور کا باعث بن جاتا ہے اور فسق و فجو رسیدھا آگ کی طرف لے جاتے ہیں۔ایک شخص جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کا عادی ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کذاب یعنی جھوٹا لکھا جاتا ہے۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب قول اللہ یا ایھا الذین امنوا اتقوا الہ کونوا۔۔۔حدیث نمبر 6094) پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا۔جی حضور ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا اللہ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا۔آپ تکیے کا سہارا لئے ہوئے تھے جوش میں آکر بیٹھ گئے اور بڑے زور سے فرمایا دیکھو تیسرا بڑا گناہ جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا ہے۔آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ ہم نے چاہا کہ کاش آپ خاموش ہو جائیں۔( صحیح بخاری کتاب الشهادات باب ما قيل في شهادة الزور حدیث نمبر 2654) پس آنحضرت ﷺ کو گوارا نہیں تھا کہ ان کی امت میں سے ہو کر اس مرگی کی طرف منسوب ہو کر پھر آگ میں