خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 42

خطبات مسرور جلد ششم 42 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 پہلی بات جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔کسی قوم کے امراء میں ان کی دولت کی وجہ سے بڑائی پیدا ہو جاتی ہے اور دولت بڑھنے کے ساتھ ساتھ لالچ بڑھتا ہے۔اپنے ذاتی خزانے بھرنے کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔بعض اوقات دوسروں کا حق مار کر بھی اپنے خزانے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ذرا ذراسی بات پر غریبوں کا حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض تو میں نے دیکھا ہے کہ بہانوں کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کسی طرح ملازمین کے پیسے کاٹتے رہیں۔اسلام نے ان باتوں کو نا پسند فرمایا ہے بلکہ یہ چیز میں ظلم ہیں اور ظلم بہت بڑا گناہ ہے۔حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں بن کر سامنے آئے گا۔حرص بخل اور کینہ سے بچو کیونکہ حرص بخل اور کینہ نے پہلوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو خون ریزی پر آمادہ کیا اور ان سے قابل احترام چیزوں کی بے حرمتی کروائی۔( صحیح مسلم۔کتاب البر والصلۃ والا داب۔باب تحریم الظلم حدیث 6472) پھر ایک حدیث ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ ہم نے عرض کیا جس کے پاس نہ روپیہ ہو نہ سامان حضور نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ وغیرہ عبادات ایسے اعمال لے کر آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا ناحق خون بہایا ہو گا، کسی کو مارا ہوگا۔پس ان مظلوموں کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔اس شخص کی ساری عبادتیں ان مظلوموں کی طرف چلی جائیں گی۔یہاں تک کہ ان کے حقوق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس کے ذمے ڈال دیئے جائیں گے اور اس طرح جنت کی بجائے اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔یہی شخص دراصل مفلس ہے۔( صحیح مسلم۔کتاب البر والصلۃ والا داب۔باب تحریم الظلم حدیث 6474) پس ایسے لوگ جو عبادات تو کرتے ہیں بعض دفعہ جماعتی طور پر چندے بھی بڑھ بڑھ کر دے رہے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے حق مارنے والے ہیں، ایسے لوگ ظالم ہیں جن کا بیان اس حدیث میں ہوا ہے اور اس ظلم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو مفلس ہونے کی حالت میں حاضر ہوں گے۔پاکیزگی صرف ظاہری عبادتوں سے نہیں ہے بلکہ دلوں کی حالت پاکیزہ بنانے سے ہے اور دلوں کی پاکیزگی عبادتوں کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق ادا کرنے سے ہوتی ہے۔پس امراء کا غریبوں کے حقوق ادا کرتے ہوئے ان کے لئے مالی قربانیاں دینا، انہیں پاک کرنے کا باعث بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهَرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا (التوبة : 103) یعنی اے رسول ان کے مالوں سے صدقہ لے تاکہ انہیں پاک کرے اور ان کی ترقی کے سامان کرے۔ان کا تزکیہ کرے۔یعنی یہ صدقہ مومنوں کے مال میں بھی برکت کا موجب ہوگا اور ان کے نفوس میں بھی برکت کا موجب ہوگا۔بشرطیکہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے دیا جائے۔اور یہ مال جو امیروں سے لیا جائے گا پھر قوم کے کمزور طبقے پر خرچ ہو گا جو پھر ان کمزور لوگوں کے مال میں اضافے کا بھی باعث بن سکتا ہے اور ان غریبوں میں سے کئی حالات اچھے ہونے کی وجہ سے پھر اس قابل ہو جائیں گے کہ جو پھر خود اپنے مال کو صاف کرنے کے لئے صدقہ کرنے والے ہوں گے، زکوۃ دینے والے ہوں گے، چندوں میں بڑھنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی یہ خوبصورت تعلیم ہے جو