خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 40

40 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم کینوں اور بغضوں سے بھرے ہوئے تھے عفو و درگزر سے کام لینے والے بن گئے۔وہی جو شراب کے نشے میں دھت رہنے والے تھے اور پانی کی طرح شراب پینے والے تھے شراب کی ممانعت کا اعلان سنتے ہی شراب کے ہونٹوں سے لگے ہوئے پیالوں کو پھینکنے والے بن گئے۔وہی جن کے مٹکوں میں پانی کی بجائے شراب ہوتی تھی ایک آواز پر مٹکوں کو توڑنے والے بن گئے اور مدینہ کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہنے لگ گئی۔وہی جن کے دن اور رات برائیوں اور گناہوں سے بھرے ہوئے تھے خدمت دین اور عبادت سے اپنے دن اور رات سجانے لگے۔وہی جو مجلسوں کے رسیا تھے گوشہ خلوت میں اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑانے والے بن گئے۔پس یہ انقلاب ان میں اس لئے آیا کہ انہوں نے اس مُزَکی کی قوت قدسی اور پاک تعلیم سے فیض پایا۔ایک جذبے اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پاک قو تیں عطا فرمائیں جن سے ان کی سوچوں کے دھارے بدل گئے۔وہی جو اس برائی کو برائی نہ سمجھتے تھے نیکی کے اعلیٰ معیاروں کے حصول میں سرگرداں ہو گئے۔وہی جو جہالت کے اندھیرے گڑھوں میں پڑے ہوئے تھے علم وفضل کے خزانے بن گئے۔آنحضرت ﷺ کی مجلسوں کی صحبت سے نہ صرف ان کے اپنے دل پاک ہوئے بلکہ وہ پاک علم پھیلانے والے بن گئے۔خدا تعالیٰ کی ذات پر ان کا یقین کامل ہوا اور روشن نشانوں سے انہوں نے اپنے رب کو پہچانا۔360 بتوں کی بجائے خدا تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے اس کی ذات پر ایمان ہر روز بڑھتا چلا گیا۔ہر روز انہوں نے خدا کی ذات کونئی شان سے دیکھا اور جانا۔اور پھر جب ایسے پاک دل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْد یعنی اپنے کلام سے ، روح القدس سے ان کی مدد کی۔پس یہ انقلاب تھا جو یہ عظیم رسول اس زمانے کے جاہل عربوں میں لایا۔ایسا تزکیہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس عظیم رسول کا زمانہ تا قیامت ہے اس لئے اس تعلیم سے بھی ہمیشہ ان لوگوں کا تزکیہ ہوتار ہے گا جو حقیقی رنگ میں اس سے فیض پانے والے ہوں گے۔اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں گے۔جیسا کہ ہم نے لغوی معنوں میں دیکھا ہے کہ یزیهِمْ “ کے معنی یہ بنیں گے کہ ان کی تعداد بڑھائے گا۔یعنی اس کلام کی غیر معمولی تاثیر کی وجہ سے جو اس پر اتر لوگ اسے قبول کرتے چلے جائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب اس عظیم رسول کا دین یعنی اسلام تمام دینوں پر غالب ہو گا۔یہ انقلاب جولوگوں کی طبائع میں آپ نے پیدا کیا۔لوگوں کی سوچیں اور ذہنتیں بدلیں۔ان کے دماغوں اور دلوں کو یکسر بدل ڈالا۔یہ ایک دن میں تو نہیں آیا تھا۔پہلے دن تو تمام عرب نے پاکیزگی اختیار نہیں کر لی تھی۔آہستہ آہستہ اس تعلیم سے انقلاب آنے لگا جس جس طرح لوگ عقل سے کام لیتے چلے گئے۔بعض ایسے لوگ ہیں جن کا تزکیہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ان کا تزکیہ نہیں ہوسکتا یہ تو عذاب کے مورد بننے والے لوگ ہیں۔مکہ میں مخالفت بڑھی تو مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے راستے کھول دیئے اور آہستہ آہستہ تمام عرب حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ابراہیمی دعا کو سنتے ہوئے اس عظیم رسول کے ذریعہ سے پشتوں کے بگڑے ہوؤں کو سیدھا کر دیا۔وہی ہندہ جو میدان جنگ میں شہید ہونے والے آنحضرت ﷺ کے چچا کا کلیجہ چبانے والی تھی جب اسلام قبول کر کے پاک دل ہوئی تو عبادت گزار بن گئی۔پس جب ہم یہ نظارے دیکھتے ہیں، ان واقعات کو سنتے ہیں تو دل اس یقین سے بھر جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا