خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 530 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 530

530 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم سب سے بڑی سند تو یہی ہمارے لئے ہے لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس پر بھی اب ریسرچ ہو رہی ہے کہ دل اور دماغ کا کیا تعلق ہے اور آیا جذبات اور خیالات کا اثر دل پر بھی پڑتا ہے یا نہیں پڑتا۔کچھ سائنسدان اب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جذبات کا اثر پہلے دل پر ہی ہوتا ہے۔خیالات کا اثر پہلے دل پر ہی ہوتا ہے اور ایک ریسرچ یہ ہے کہ دل، ماغ کو زیادہ معلومات دیتا ہے اس کی نسبت جو دماغ دل کو بھیجتا ہے۔ابھی تو یہ جذباتی کیفیت اور بعض جسمانی عوارض تک ریسرچ ہے۔روحانیت کے تعلق کی تو دنیادار براہ راست تحقیق نہیں کر سکتے لیکن اگر دیکھا جائے ( جوان کی ریسرچ سے بھی ثابت ہوتا ہے ) کہ بعض جذبات کی کیفیت بعض برائیوں کی طرف لے جاتی ہے اور اگر اسی تناظر میں دیکھیں تو یہ دل کی روحانی بیماریاں ہی ہیں جو انسان کو ہدایت سے دور کرتی ہیں۔بہر حال ایسے تحقیق کرنے والے بھی ہیں اور اس سے اختلاف رکھنے والے بھی ہیں جو اپنی تحقیق کر رہے ہیں۔لیکن بہر حال دنیا کی توجہ اس طرف پیدا ہو رہی ہے۔بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید دل میں یہ بعض خیالات پہلے پیدا ہوتے ہیں اور پھر دماغ کو اطلاع کرتے ہیں۔اور ان کے نزدیک جو دل ہے وہ دراصل پہلے دماغ کو اطلاع کر رہا ہوتا ہے۔لیکن بعض یہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں اصل میں پہلے دماغ ہے، دل سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا بہر حال اس طرف توجہ ہورہی ہے۔ہمارے ڈاکٹر نوری صاحب جو طا ہر ہاٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ کے انچارج ہیں۔جب یہ سرکاری ملازم تھے تب بھی انہوں نے اپنے کلینک میں لکھ کر لگایا ہوا تھا کہ اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ( سورة الرعد : آیت 29 ) کہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔تو احمدی ڈاکٹر ہی یہ سوچ رکھ سکتا ہے۔یقین ذکر الہی دلوں کی تسلی کا باعث بنتا ہے۔دل کی بہت سی بیماریاں بعض جذباتی کیفیات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔پس روحانی شفاء بھی اور جسمانی شفاء بھی اللہ کے ذکر میں ہے۔اور اس کے طریقے قرآن کریم نے بڑے احسن رنگ میں کھول کر ہمیں بتائے ہیں اور اب بے شک جیسا کہ میں نے کہا بعض اختلاف رکھنے والے بھی موجود ہیں لیکن سائنسدانوں کی ریسرچ اس طرف چل رہی ہے۔ضمنا میں یہاں ساتھ ہی یہ بھی ذکر کر دوں کہ طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ جیسا کہ میں نے کہا کہ ڈاکٹر نوری صاحب اس کے انچارج ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اور ان کا سٹاف بڑی محنت سے اس ادارے کو چلا رہے ہیں اور اب تک تو بیماریوں کی شفاء کے ایسے ایسے معجزے دیکھنے میں آرہے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔بلکہ بعض ڈاکٹرز جو وہاں باہر امریکہ وغیرہ سے گئے انہوں نے خود مجھے بتایا کہ ایسے ایسے کیس ہم نے ٹھیک ہوتے دیکھے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح ٹھیک ہو گئے۔تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے ڈاکٹر بھی دعا کر کے کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر یقین ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں میں شفاء رکھے اور پہلے سے بڑھ کر ان کے مریض شفاء پانے والے ہوں۔