خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 527 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 527

527 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس آیت میں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اس میں شفاء اور رحمت ہے لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ جو مومن نہیں ان کے لئے اس میں گھاٹے کے سوا کچھ نہیں، خسارے کے سوا کچھ نہیں۔قرآن کریم نے تو ابتداء میں ہی ، سورہ بقرہ کے شروع میں ہی فرما دیا کہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة:2) کہ یہ کتاب ہے جس کے خدا تعالیٰ کے کلام ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں اور متقیوں کے لئے ہدایت ہے۔پس یہ روحانی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت ہے۔جن کے دل گند سے بھرے ہوئے ہیں جو ہر وقت اس میں نقائص کی تلاش میں ہیں۔یہ لوگ بغضوں اور کینوں کی وجہ سے قرآن کریم سے فیض پا ہی نہیں سکتے ان کو تو قرآن کریم صرف اور صرف گھاٹے میں بڑھائے گا۔یہ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ انجام یا بدانجام مقدر کیا ہوا ہے۔لیکن مومنوں کے لئے اس میں شفاء اور رحمت ہے اور وہ لوگ اس سے فیض پانے والے ہیں جو ایمان لانے کے بعد اس کی تعلیم پر عمل کر کے پھر اپنی روحانی حالتوں کے معیار بلند کرتے چلے جائیں اور اس زمانہ میں جیسا کہ میں نے کہا قرآن کریم کے اسرار و معارف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس طرح بتائے جو ہمارے دلوں کی کدورتوں اور بیماریوں کو ایسے حیرت انگیز طور پر دُور کر دیتے ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔اور تب احساس ہوتا ہے کہ دوائی تو موجود تھی لیکن استعمال کا طریقہ نہیں آتا تھا۔علاج تو کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اب بھی کرتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو نہیں مانا لیکن اس علاج کے ساتھ کیا کیا پر ہیز ضروری ہیں یہ پتہ نہیں۔کیونکہ ہر دوائی کے ساتھ ڈاکٹر کچھ پر ہیز بھی بتاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانے کے مسیحا کو ماننے کی تو فیق عطا فرمائی اور اس کے پاس پہنچا دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یہ خدا کا قول ہے کہ تیرے ذریعہ سے مریضوں پر برکت نازل ہوگی ، روحانی اور جسمانی دونوں قسم کے مریضوں پر مشتمل ہے۔روحانی طور پر اس لئے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ پر ہزار ہا لوگ بیعت کرنے والے ایسے ہیں کہ پہلے ان کی عملی حالتیں خراب تھیں اور پھر بیعت کرنے کے بعد ان کے عملی حالات درست ہو گئے۔اور طرح طرح کے معاصی سے انہوں نے توبہ کی اور نماز کی پابندی اختیار کی اور میں صد ہا ایسے لوگ اپنی جماعت میں پاتا ہوں کہ جن کے دلوں میں یہ سوزش اور تپش پیدا ہوگئی ہے کہ کس طرح وہ جذبات نفسانیہ سے پاک ہوں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن۔جلد 22 صفحہ 86 - حاشیہ) پس جس کو خدا تعالیٰ نے مریضوں کو برکت دے کر شفایاب کرنے کی ضمانت دی ہے یہی اب آنحضرت ﷺ کا غلام صادق اور عاشق قرآن ہے۔جس کے ماننے سے روحوں کو شفاء نصیب ہوگی۔بشرطیکہ تمام پر ہیزوں کے ساتھ اس سے فیض اٹھانے کی کوشش کریں۔اس کے ساتھ ہی اس آیت میں ایک اور مضمون بھی واضح ہوتا ہے کہ اب