خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 520
خطبات مسرور جلد ششم 520 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر سے نکل کر باہر آیا اور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیا تھا کہ مدت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن میں آیا، تندرست ہو گیا اور زندہ موجود ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن۔جلد 22 صفحہ 229-230) حضرت مولوی شیر علی صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ 1904ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب بہت بیمار ہو گئے تھے اور اس بیماری کی حالت میں ایک وقت تنگی اور تکلیف کا ان پر ایسا آیا کہ ان کی بیوی مرحومہ نے سمجھا کہ ان کا آخری وقت ہے۔وہ روتی چیختی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پہنچیں۔حضور نے تھوڑی سی مشک دی کہ انہیں کھلاؤ اور میں دعا کرتا ہوں۔یہ کہہ کر اسی وقت وضو کر کے نماز میں کھڑے ہو گئے صبح کا وقت تھا۔حضرت مفتی صاحب کو مشک کھلائی گئی اور ان کی حالت اچھی ہونے لگی۔تھوڑی دیر میں طبیعت سنبھل گئی۔(سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی۔جلد پنجم صفحہ 510) منشی ظفر احمد صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی ایک رشتہ دار کوامر وھہ سے قادیان لائے وہ شخص فربہ اندام موٹا تھا۔50-60 سال کی عمر کا ہو گا اور کانوں سے اس قدر بہرہ تھا کہ سننے کے لئے ایک ربڑ کی نکی کانوں میں لگایا کرتا تھا اور زور سے بولتے تو قدرے سنتا تھا۔حضرت صاحب ایک دن تقریر فرمارہے تھے اور وہ بھی بیٹھا تھا۔اس نے عرض کی کہ حضور مجھے بالکل سنائی نہیں دیتا۔میرے لئے دعا فرما ئیں کہ مجھے آپ کی تقریر سنائی دینے لگے۔آپ نے دوران تقریر میں اس کی طرف روئے مبارک کر کے فرمایا کہ خدا قادر ہے۔اسی وقت اس کی سماعت کھل گئی ، سننے لگا اور کہنے لگا۔حضور آپ کی ساری تقریر مجھے سنائی دیتی ہے اور نلکی بھی اس نے ہٹا دی۔(اصحاب احمد۔جلد چہارم۔صفحہ 179) میاں نذیر حسین صاحب ابن حضرت حکیم مرہم عیسی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت میاں چراغ دین کے ہاں پہلا بچہ یعنی ہمارے والد صاحب حکیم مرہم عیسی صاحب پیدا ہوئے تو آپ پانچ سال کی عمر تک نہ چلنا سیکھے اور نہ بولنا۔اس پر ایک روز جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ہمارے دادا محترم نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ حضور میرا صرف ایک ہی لڑکا ہے اور وہ بھی گونگا اور گنجا ہے۔حس حضور دعا فرمائیں کہ تندرست ہو جائے۔حضور نے فرمایا میاں صاحب اس بچے کو لے آئیں۔چنانچہ حضور نے محترم حکیم صاحب کو اپنی گود میں لے کر ایک لمبی دعا کی اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ بچہ درست ہو جائے گا۔چنانچہ حضور جب دوبارہ تشریف لائے تو حضرت میاں چراغ دین صاحب سے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمالی ہے۔آپ کا یہ بچہ بڑا بولنے والا اور چلنے والا ہوگا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت حکیم صاحب کو 80-90 سال کی عمر میں اس قدرا ونچی اور مسلسل بولتے دیکھا کہ ہم حیران رہ جاتے تھے۔( تاریخ احمدیت لاہور۔صفحہ 176 ضیاء الاسلام پریس ربوہ )