خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد ششم 521 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 حضرت شیخ زین العابدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ایک دفعہ میں قادیان آیا تو حضرت صاحب گول کمرے میں ٹہل رہے تھے۔مجھے شدید کھانسی تھی اور کسی طرح بہتی نہیں تھی۔کئی علاج کر چکا تھا جیسا کہ حضور کی عادت تھی۔فرمایا میاں زین العابدین کیسے آئے؟ عرض کیا کہ حضور کھانسی ہے اور اس قدر شدید ہے کہ پتہ نہیں تھا کہ دوسرا سانس آئے گا یا نہیں۔فرمایا اچھا یہ بتاؤ کہ کتنے عرصے کی ہے۔عرض کیا کہ چھ ماہ کی۔فرمایا کہ اب تک اطلاع کیوں نہ دی۔اب تو بیماری پرانی ہو چکی ہے۔پھر فرمایا اچھا امیرانہ علاج کروانا ہے یا غریبانہ؟ تو عرض کیا جیسے آپ مناسب سمجھیں۔فرمایا کہ زمیندار بالعموم غریب ہی ہوتے ہیں۔اچھا علاج کے لئے آپ کتنے پیسے لائے ہیں۔عرض کیا پانچ روپے۔فرما یالا ؤ۔میں نے دے دیئے۔فرمایا جاؤ اب آپ کو آئندہ کبھی کھانسی نہیں ہوگی۔میں نے عرض کیا جیسا کہ میری عادت تھی کہ بڑی بے تکلفی سے سب کچھ کہہ دیتا تھا۔حضور جانتے تھے کہ زمیندار سادہ طبیعت ہوتے ہیں۔اس لئے حضور برانہیں مناتے تھے کہ کیا حضور کے پاس کوئی جادو ہے کہ حضور کا صرف زبان سے کہہ دینا بیماری دور کرنے کے لئے کافی ہے۔آپ نے فرمایا میں جو کہتا ہوں بیماری نہیں ہوگی۔تھوڑی دیر کے بعد میرے بھائی حافظ حامد علی صاحب آگئے حضور نے فرمایا حامد علی ! ہم نے آپ کے بھائی سے پانچ روپے لئے ہیں اور ان کو کہہ دیا کہ آپ کو اب کھانسی نہیں ہوگی۔مگر گاؤں کے لوگوں کو تسلی نہیں ہوتی جب تک ان کو دوانہ دی جائے ان کو بازار سے ملٹھی دھیلے کی ، اور بادام دھیلے کے، الا چی دھیلے کی اور منقہ دھیلے کالا کر دیں۔تو جب وہ لے آئے ( کیونکہ دھیلے کی بھی کافی چیزیں مل جاتی تھیں ) تو حضرت صاحب نے خود گولیاں بنادیں اور فرمایا میاں زین العابدین آپ کی کھانسی بھی دور ہو جائے گی اور پانچ روپے میں موٹے تازے بھی ہو جاؤ گے۔کھانسی تو آپ کی دور ہوگئی۔اب یہ پانچ روپے لے لو اور اس کا گھی استعمال کر و موٹے بھی ہو جاؤ گے۔کہتے ہیں میں نے بڑا اصرار کیا کہ حضور یہ رکھ لیں۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں۔آپ کو کوئی فیس کی ضرورت تو نہیں تھی۔یہ تو ایک شفقت کا پیار کا اظہار تھا مریدوں سے۔اصحاب احمد۔جلد 13 صفحہ 96-97 - مطبوعہ ربوہ ) پس اصل چیز اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ شافی خدا ہے۔علاج بھی اس وقت فائدہ دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا اذن ہو۔حدیث میں آیا ہے کہ دوا تو اندازہ ہے اور وہ اللہ کے اذن سے ہی فائدہ پہنچاسکتی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی جب اپنے رب کی خصوصیات بیان کیں۔اس کے فضل اور اس کی قدرت کا ذکر کیا تو فرمایا وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے شفا دیتا ہے۔یہاں آپ نے ”میں بیمار ہوتا ہوں“ کہہ کر وہی بات بیان کی ہے کہ بعض دفعہ انسان اپنی غلطیوں کی وجہ سے پکڑا جاتا ہے اور پھر ان غلطیوں کی وجہ سے بعض بیماریاں اس کو آجاتی ہیں کیونکہ قانون قدرت چلتا ہے۔تو فرمایا کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ ہی فضل فرمائے تو پھر انسان شفا پاتا ہے اور اگر اللہ