خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 519 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 519

519 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہیں اور اس کے بتائے ہوئے طریق پر ہی ہوتے ہیں۔لیکن انحصار صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو شفا دینے والی ہے۔جب سب علاج بے کار ہو جاتے ہیں تو دعا سے اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے۔اس کے بارہ میں بھی ہمیں آنحضرت ﷺ کی زندگی میں واقعات ملتے ہیں۔آپ کے صحابہ کی زندگی میں ملتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ملتے ہیں۔آپ کے صحابہ کی زندگی میں ملتے ہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک ہم شفا پانے اور احیاء موتی کے نشان دیکھتے ہیں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے بیٹے کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔اس نے کہا یا رسل اللہ ﷺ یہ دیوانہ ہے اور ہمارے کھانے کے اوقات میں اس کی دیوانگی ظاہر ہوتی ہے۔اس کو خاص طور پر کوئی دورہ پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہمارے کھانے کو برباد کر دیتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے اس بچے کی چھاتی پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا کی۔اس بچے نے قے کر دی اور اس کے منہ سے کوئی سیاہ رنگ کی چھوٹی سی چیز نکلی اور اس نے چلنا شروع کر دیا۔اور وہ ٹھیک ہو گیا۔( مسند احمد بن حنبل۔مسند عبداللہ بن عباس - جلد اول صفحہ 634۔ایڈیشن 1998ء۔حدیث نمبر 2133) پھر ایک روایت میں آتا ہے کہ یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمی کی پنڈلی پر ایک زخم کا نشان دیکھا۔میں نے پوچھا اے ابو مسلم یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے بتایا کہ خیبر کے دن مجھے یہ زخم آیا تھا۔لوگوں نے بیان کیا کہ حضرت سلمی کو زخم آیا ہے۔میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔تو آپ نے اس زخم پہ تین بار پھونک ماری تو اس کے بعد مجھے آج تک کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔( بخاری کتاب المغازی۔باب غزوة ذات قرد۔حدیث نمبر 4206) اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہمیں اس طرح کے نشان ملتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر خود فرماتے ہیں کہ سردار نواب محمد علی خان صاحب مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبدالرحیم خان ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا اور کوئی صورت جانبری کی دکھائی نہ دیتی تھی۔گویا کہ وہ مردہ کے حکم میں تھا۔اس وقت میں نے اس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے۔تب میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ یا الہی ! میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں ، اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ (البقرة:255) یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الہی کے کسی کی شفاعت کر سکے۔تب میں خاموش ہو گیا۔بعد اس کے بغیر توقف کے الہام ہوا إِنَّكَ أَنْتَ الْمَجَازُ یعنی تجھے شفاعت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔تب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی تو خدا تعالیٰ نے