خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 518
خطبات مسرور جلد ششم 518 خطبہ جمعہ فرموده 19 دسمبر 2008 کرنے والے نے لکھا ہے کہ مکھی کو Ethenol میں ڈبو کر اس کو بعض قسم کے بیکٹیریا بشمول ہسپتال کے پیتھوجن (Pathogen) پر استعمال کیا گیا تو اس میں اینٹی بایوٹک عمل ظاہر ہوا اور جتنے بیکٹیریا تھے وہ مر گئے۔ایک اور ریسرچ ٹوکیو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے کی ہے۔کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ہسپتالوں میں لکھیاں اینٹی بایوٹک کے طور پر استعمال ہورہی ہیں۔مکھیوں میں ایسی چیز بھی نکلی ہے جو قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔رزسٹنس (Resistance) پیدا کرتی ہے۔یا امیون سسٹم (Immune System) کو ڈویلپ کرتی ہے۔سیکھیوں کی ریسرچ کی طرف سائنسدانوں کا خیال اس لئے بھی گیا کہ کھیاں گندی جگہوں پر بیٹھتی ہیں۔بہت ساری بیماریوں کو لئے پھرتی ہیں۔کالرا (Cholara) وغیرہ کے جراثیم بھی اس میں ہوتے ہیں لیکن یہ خود کسی بیماری سے متاثر نہیں ہوتیں۔اس بات کی وجہ سے ان کو اس پر ریسرچ کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔اور تب انہوں نے دیکھا کہ اس میں اینٹی بیکٹیرئیل (Ani Bicterial) قسم کی کچھ چیزیں پائی جاتی ہیں۔یہ بھی انہوں نے دیکھا کہ جب مکھی کسی سیال (Liquid) چیز پانی یا دودھ وغیرہ میں گرتی ہے تو اس کو بیماری کے بعض جراثیم سے خراب کر دیتی ہے۔اس کے پروں پر جو جراثیم لگے ہوتے ہیں فوری طور پر وہاں ان کا اثر شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اگر اس مکھی کو ڈبو دیا جائے تو اس میں سے ایسے انزائمز نکلتے ہیں جو ارد گرد کے بیکٹیریا کوفور مار دیتے ہیں۔تو اسلام کے شافی خدا کی یہ عجیب حیرت انگیز شان ہے جس نے اپنے نبی اللہ کو آج سے 14 سو سال پہلے علاج کے یہ طریقے سکھا دیئے جن پر آج دنیا ریسرچ کر رہی ہے۔لیکن ان سب علاجوں کی نشاندہی کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اپنے ماننے والوں کو خاص طور پر یہی بتایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دعا علاج ہے، صدقہ علاج ہے، علاج کے ساتھ صدقہ اور دعا کرو۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ تم اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ساتھ کرو اور اپنے اموال کوزکوۃ کے ذریعہ محفوظ کرو کیونکہ یہ تم سے مشکلات اور امراض کو دور کرتی ہے۔( کنز العمال جلد 5 الكتاب الثالث من حرف الطاء - كتاب الطب والرقي الفصل الاول۔حدیث نمبر 28179) پھر ایک حدیث میں ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔نبی کریم ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے پناہ مانگتے اور اپنے داہنے ہاتھ کو چھوتے اور فرماتے ، اے اللہ ! لوگوں کے رب ، بیماری کو دور کر دے تو اسے شفا عطا کر اور تو ہی شافی ہے۔تیری شفا کے سوا اور کوئی شفا نہیں۔ایسی شفا عطا کر جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔اَللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ اَذْهِبِ الْبَاسَ اِشْفِ وَ انْتَ الشَّافِي۔لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءُكَ إِشْفِنِي شفَاءً كَامِلا لا يُغَادِرُ سَقَمًا - پس یہ اصل ہے جس پر ایک مومن کو کامل ایمان ہونا چاہئے کہ علاج بھی بے شک خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے