خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 504

خطبات مسرور جلد ششم 504 خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 بڑی مرکزی جگہ پہ ہے۔اس شہر کے دل میں جو ہماری مسجد ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح یہاں سے محبت کا پیغام پھیلے گا اور اسی نے انشاء اللہ تعالیٰ دلوں کو فتح کرنا ہے۔صوبائی حکومت نے بھی وہاں کافی تعاون کیا۔ایک احمدی پولیس افسر دے دیا جو اپنی ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے تھے لیکن عمو مالوگوں کا اپنا تعاون بھی بڑا اچھا تھا۔روزانہ کم از کم دو دفعہ مسجد میں جانے کے باوجود یہ نہیں تھا کہ لوگ تنگ آئے ہوں یا ان کو ایک طرف روکا جاتا ہو۔بعض دفعہ ٹریفک خود بخود درک جاتی تھی اور خود شوق سے راستہ دے دیتے تھے۔اسی لئے میں نے کہا کہ اس زمین سے صحیح رنگ میں احمدیوں کو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔کالیکٹ (Kalicut) میں کالیکٹ اور اردگرد کے احمدیوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔اس علاقے کے جتنے بھی احمدی آئے تھے جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اللہ کے فضل سے سب سے ملاقاتوں کی توفیق ملی۔ان ملاقاتوں کے دوران جو تعلق اور وفا کا اظہار سب مردوزن اور بچوں نے کیا وہ بھی حیرت انگیز تھا۔جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں، یہ لوگ اخلاص و وفا میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔کئی ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ چند سال پہلے ہی بیعت کی اور جماعت میں شامل ہوئے لیکن اخلاص و وفا میں بہت بڑھ گئے ہیں۔اس طرح جماعتی نظام میں سموئے گئے ہیں کہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ نئے احمدی ہیں یا پرانے احمدی ہیں۔خدمات میں پیش پیش ہیں۔کئی ہیں جن کے پاس اہم جماعتی عہدے ہیں اور بڑے احسن طریق سے خدمات بجالا رہے ہیں۔جماعتی نظام کو سمجھنے کے لئے اور اپنے معیار بہتر کرنے کے لئے وہ بار بار سوال کرتے رہے۔اپنے علم میں اضافہ کی کوشش کرتے رہے تا کہ جماعتی کاموں کو صحیح طرز پر اور صحیح نہج پر چلا سکیں۔تو اس قسم کے نئے احمدی ہیں جو ہر جگہ ہونے چاہئیں۔صرف بیعتیں کروانے کا کوئی فائدہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک جگہ فرمایا تھا کہ مجھے تعداد بڑھانے سے غرض نہیں ہے، تقویٰ میں بڑھنے والے ہونے چاہئیں۔تو باقی دنیا سے بھی میں یہ کہتا ہوں اور اسی طرح ہندوستان کے دوسرے علاقہ کی جماعتوں کو بھی کہ بیعت ایسی ہو جو الیسا پکا ہوا پھل ہو جو جماعتی زندگی کے لئے مفید ہو۔جو صحت بخشنے والا ہو۔جس کے بیج سے پھر ایسے پودے نکلیں جو ہر لحاظ سے ثمر آور ہوں۔پس جب میں جماعتوں کو کہتا ہوں کہ گمشدہ بیعتوں کو تلاش کرو تو اس کے ساتھ اس میں یہ بھی پیغام ہے کہ ایسی بیعتیں نہ لاؤ جو تربیت کی کمی وجہ سے غائب ہو جائیں۔جن کے صرف اپنے مفاد ہوں۔اگر اُن کی مثال پرندوں کی ہے تو ایسے پرندے ہوں جن کی مثال قرآن کریم نے اس طرح دی ہے کہ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ یعنی ان کو اپنے ساتھ ایسا سدھالے کہ ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِيْنَكَ سَعْيا (البقرة: 261) پھر انہیں اپنی طرف بلاوہ تیری طرف تیزی کے ساتھ چلے آئیں گے۔پس ایسے احمدی چاہئیں جو اپنے آپ کو جماعت کے کام کے لئے بغیر عذر پیش کریں۔جو جماعت میں داخل ہوتے ہی اس نظام میں سموئے جائیں اور یہ اُس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک دعوت الی اللہ