خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 503
503 خطبہ جمعہ فرموده 12 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم دینار یہاں آگئے تھے۔ان کے ساتھ بارہ عرب تاجر اور تھے۔اس زمانہ میں وہاں کا جو راجہ تھا ، پارول ، اس نے اسلام قبول کیا ہے۔اس نے پہلے معلومات حاصل کیں اور آخر اسلام کو سچا سمجھ کے اسے قبول کیا اور پھر اسی تجارتی قافلے کے ساتھ وہ مکہ بھی گیا۔یہ جو راجہ تھاوہ اسلام کی خوبصورت تعلیم اور معجزات دیکھ کر مسلمان ہوا۔اس علاقہ میں ایک راجہ کے مسلمان ہونے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ذکر فرمایا ہے۔ناموں میں کچھ فرق ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس زمانہ کے نام اور آج کل کے ناموں میں فرق ہو۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا ہے کہ وہاں کا راجہ مسلمان ہوا اور پھر یہاں اسلام پھیلا۔بلکہ وہاں ایک احمدی خاندان ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم بھی اسی راجہ کی اولاد ہیں۔اس راجہ کی کچھ نیکیاں تھیں جو اس زمانے میں مسلمان ہوا اور اس کی آئندہ نسلوں کے لئے یقیناً دعائیں بھی ہوں گی جو اللہ تعالیٰ نے آئندہ نسل کے ایک حصہ کو احمدیت قبول کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائی۔یہاں یہ بھی بتا دوں جیسا کہ میں پہلے بھی ایک خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ اس علاقہ میں لٹریسی ریٹ (Literacy Rate) تقریباً 100 فیصد ہے جبکہ باقی ملک میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور مسلمانوں میں تو نہ ہونے کے برابر ہے۔لیکن اس علاقہ کے مسلمانوں میں بھی 90 فیصد سے اوپر شرح خواندگی ہے اور یہ علاقہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اس خطہ کے جو تمام بڑے مذاہب ہیں انہیں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور پڑھے لکھے اور روشن خیال لوگ یہاں موجود ہیں۔ان میں برداشت کا مادہ بھی بہت زیادہ ہے۔احمدیت کی تبلیغ کی صحیح اور مسلسل کوشش ہو تو مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ احمدیت کے لئے یہ بڑی زرخیز زمین بن سکتی ہے۔گو کہ آج کل جس طرح باقی دنیا میں بعض مسلمان تنظیموں نے نفرتیں پھیلانے اور شدت پسندی کے رویے اپنائے ہوئے ہیں اسی طرح یہاں بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔کیونکہ بعض ایسے گروہ یہاں ملے ہیں لیکن عمومی طور پر لوگ اس بات کے خلاف ہیں اور اس چیز کو ختم بھی کرنا چاہتے ہیں۔عین ممکن تھا کہ میرے جانے پر لوگ غلط اور منفی رد عمل ظاہر کرتے لیکن مجھے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ ایک دو مہینے پہلے ہی ایک ایسے گروہ کی نشاندہی ہوئی جو فتنہ پیدا کرنا چاہتے تھے یا دہشت گردوں میں شمار ہوتے تھے اور حکومت نے انہیں پکڑ کے بند کیا ہوا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ہمارے دورہ کے دوران کسی ایک طرف سے بھی مخالفانہ آواز نہیں اٹھی۔بلکہ وہاں کے ایک احمدی جرنلسٹ نے مجھے لکھا کہ مخالف مسلمان تنظیمیں یا فرقے جو ہیں ، وہ ہمارے مخالف تو ہیں ہی لیکن ان کے اخباروں نے بھی انتہائی شریفانہ رنگ میں میرے وہاں جانے کی خبر دی۔ہمارے جماعتی پروگرام بھی بھر پور طریقے سے ہوتے رہے۔ایک احمدی دوست جس کے گھر میں میں ٹھہرا ہوا تھا وہاں سے مسجد کا فاصلہ تقریباً 20 منٹ کے فاصلہ پر تھا اور ہماری مسجد بھی عین شہر کے وسط میں ہے۔ہماری وہاں جو ریسیپشن ہوئی جس میں مہمان آئے ہوئے تھے ان میں ایک بڑے سیاسی لیڈر تھے جو مجھے کہنے لگے کہ آپ لوگوں کی مسجد تو شہر کے دل میں ہے۔