خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 497 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 497

497 خطبہ جمعہ فرموده 5 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہے چاہے وہ قدرتی آفات ہیں یا ظالموں کے پیدا کردہ فسادات ہیں، ان سے بچنے کے لئے دعائیں ہیں۔مختلف لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جو پہلے ہی بعض فکر مندی والی رؤیا دکھائی تھیں جو کچھ نے مجھے پہلے بھی لکھی تھیں اور اب زیادہ آ رہی ہیں اور یہ سب خوا ہیں جو دنیا میں ان لوگوں کو دکھائی گئیں جو مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سننے اور پڑھنے کے بعد اور اسی طرح دعا کے بعد اور مختلف مشوروں کے بعد میں نے باہر سے آنے والے لوگوں کو روکا ہے۔یہی فیصلہ کیا ہے کہ نہ آئیں۔ہمارے سب کام جذباتیت سے بالا ہو کر ہونے چاہئیں۔دنیا کی باتوں یا استہزاء کا خیال دل سے نکالتے ہوئے ہونے چاہئیں۔ہر احمدی کی جان کی قیمت ہے، بلا وجہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔مجھے پتہ ہے بہت سوں کو اس سے شدید جذباتی تکلیف پہنچے گی۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے۔اگر ہم کسی غلط فیصلے کا اپنی بشری کمزوری کی وجہ سے سوچ بھی رہے ہوں تو حالات و واقعات کو اللہ تعالیٰ اس نہج پر لے آتا ہے جس سے ہمیں صحیح سوچوں اور صحیح فیصلوں کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔میں نے ابتلاؤں اور مشکلات سے بچنے کے لئے دعا کا ذکر کیا تھا اس کے لئے بہت سی مسنون دعائیں بھی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی دعائیں سکھائی ہیں۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کی دعائیں بھی ہیں۔تو اس وقت میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا سامنے رکھتا ہوں جس کو میں پہلے بعض حوالوں سے بیان کر چکا ہوں اور وہ دعا یہ ہے اَعُوْذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيْمِ الَّذِى لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمُ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَ مَا لَمْ أَعْلَمُ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ ذَرَأَ وَبَرَا - (موطا امام مالک کتاب الشعر باب مایو مر به من التعوذ حدیث نمبر 1775) کہ میں اپنے عظیم شان والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ جس سے عظیم تر کوئی شے نہیں اور کامل اور مکمل کلمات کی پناہ میں بھی کہ جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کر سکتا اور اللہ کی تمام صفات حسنہ جو مجھے معلوم ہیں یا نہیں معلوم ان سب کی پناہ طلب کرتا ہوں اس مخلوق کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا اور پھیلایا۔اس میں تمام زمینی و آسمانی شرور سے بچنے اور خدا تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی دعا ہے۔آنحضرت ﷺ کی تو ہر دعا ہی بہت جامع ہے، اور برکتیں سمیٹنے والی ہے۔لیکن جن چند مسنون دعاؤں کو روزانہ میں سامنے رکھتا ہوں ان میں سے ایک یہ بھی ہے ، اس لئے ذہن میں آگئی۔تو اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں قبول فرمائے اور ہر احمدی کو ہر شر سے بچائے۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مثلاً ایک دعا جو حضرت موسیٰ کی ہے رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: 25) کہ اے میرے رب ! میں تیری ہر چیز ، ہر خیر جو تو مجھے دے میں اس کا محتاج ہوں۔یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ہمیں خیر ہی خیر ملتی رہے۔