خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 493

خطبات مسرور جلد ششم 493 (49) خطبه جمعه فرموده 5 دسمبر 2008 فرمودہ مورخہ 5 / دسمبر 2008ء بمطابق 5 فتح 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الہادی۔دہلی۔انڈیا تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہر انسان کی اس دنیا میں خواہشات ہوتی ہیں جو ہر ایک کی ذہنی اور جسمانی استعدادوں ، علمی صلاحیتوں ، مالی حالتوں، اپنے ماحول اور معاشرے کی حدود یا وسعت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔لیکن ایک مومن کو ، ایک کامل ایمان والے کو، ایسے لوگوں کو جن کا کامل بھروسہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے ہر کام ہر خواہش ہر مشکل اور ہر آسائش میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہئے۔تبھی ایک انسان مومن کہلا سکتا ہے۔تبھی ایمان میں ترقی کرنے والا کہلا سکتا ہے۔تبھی اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار کہلاسکتا ہے۔ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش اور اس کو پورا کرنے کے لئے وہ اس فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے کہ اگر جوتی کا تسمہ بھی لینا ہے تو خدا سے مانگو۔کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کی مرضی نہیں ہوگی تو جیب میں رقم ہونے کے باوجود، بازار تک پہنچنے کے باوجود، اُس دکان میں داخل ہونے کے باوجود جہاں سے تسمہ خریدنا ہے، ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ اس تھمے کا حصول ممکن نہ ہو۔اور اگر یہ ممکن ہو بھی جائے تو اس کو استعمال کرنا نصیب نہ ہو۔پس ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لئے ، ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا ایک مومن کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اس کا فضل مانگتے ہوئے اس چیز یا خواہش کے حصول اور تکمیل کی کوشش کرنی چاہئے۔ہم احمدیوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور میں اکثر اس حوالے سے بات کرتا ہوں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو مانے کی توفیق عطا فرمائی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ عرفان اپنی جماعت میں پیدا کرنے کی طرف بڑی شدت سے کوشش کی اور جماعت کو توجہ دلائی بلکہ پیدا فرمایا کہ خدا کو پہچانو اور کس طرح پہچانو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں: میں سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہی کو پیار کرتا ہے اور انہی کی اولا د بابرکت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکموں کی