خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 490

خطبات مسرور جلد ششم 490 خطبہ جمعہ فرموده 28 نومبر 2008 پس اگر ہم نے اس انعام کو اپنے پر جاری رکھنا ہے جس کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ نے فرمائی تھی، تو اپنے مقصد پیدائش کو یا د رکھنا انتہائی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لئے جو راستے ہمیں بتائے ہیں اور جو طریق ہمیں سکھایا ہے اس میں سب سے اہم پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی ہے۔پس ہر عورت، مرد، بچہ، بوڑھا ہمیشہ یادر کھے کہ اگر اس کی پانچ وقت کی نمازوں کی حفاظت نہیں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا نہیں، تو نہ ہم اعمال صالحہ کے اُس معیار کو حاصل کرنے والے ہو سکتے ہیں جو ہمیں بتائے گئے ہیں اور نہ انسان اللہ تعالیٰ کے اُن انعامات سے حصہ لے سکتا ہے جو عبادت کے ساتھ مشروط ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: سواے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو“۔کشتی نوح۔روحانی خزائن۔جلد 19 صفحہ 15) پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد تقویٰ سے متعلق سب سے بڑی شرط نمازوں کی ادائیگی ہے اور نمازوں کی ادا ئیگی اس طرح نہیں کہ جیسے کوئی بوجھ سر سے اتارا جا رہا ہے کہ جلدی جلدی ختم ہو اور پھر جا کر اپنے دنیاوی کاموں میں مشغول ہو جائیں۔نہیں، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں نماز اس طرح ادا کرو جس طرح تم خدا کو دیکھتے ہو۔اب دیکھیں جب ہم کسی بڑی ہستی کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو ایک خوف ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ جو سب سے بالا ہستی ہے اس کی عبادت کرتے ہوئے جب ہم یہ سوچ رکھیں گے کہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں تو کس قدر ہماری خوف کی حالت ہوگی اور یہی حالت ہے جو خالص عبادت گزار بناتی ہے۔لیکن چونکہ ہر ایک میں یہ حالت ایک دم پیدا نہیں ہو سکتی اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز پڑھتے ہوئے اگر یہ حالت نہیں کہ تم سمجھو کہ خدا کو دیکھ رہے ہو تو کم از کم یہ خیال کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔وہ خدا جو سب طاقتوں کا مالک ہے، جو دلوں کا حال جانتا ہے۔جب یہ خیال ہوگا کہ وہ سب طاقتوں والا خدا ہمیں دیکھ رہا ہے تو اُس کی عبادت کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔اس طرح خالص ہو کر عبادت کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوگی جو خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والی ہوگی۔ہم اپنی نمازوں کی اس طرح حفاظت کرنے والے بنیں گے جو دنیاوی لذات، دنیاوی کاروبار، دنیاوی مقاصد کو ثانوی حیثیت دے رہے ہوں گے۔اور یہ چیز ہے جو ہمیں اَبْنَاءُ السَّمَاءِ بنائے گی اور یہی چیز ہے جو ہمیں اس مقام پر لانے والی ہوگی جس سے ہم حقیقی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شمار کئے جانے والے بنیں گے۔یہ باتیں اس لئے نہیں بیان کی جار ہیں کہ جن لوگوں کو یہ حالت میسر نہیں آتی وہ مایوس ہو کر ایک طرف بیٹھ