خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 483 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 483

خطبات مسرور جلد ششم الله 483 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 2008 ضرورت ہے کیونکہ بدظنیاں ہیں، چھوٹی چھوٹی شکایتیں ہیں جو پھر اتنی دور لے جاتی ہیں کہ آدمی دین سے بھی جاتا ہے۔کیا آنحضرت ﷺ کا دل نعوذ باللہ ٹیڑھا ہوسکتا تھا۔یقینا نہیں اور کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔آپ کا دل تو خدا تعالیٰ کی یاد کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں۔آپ سے تو خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا کہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ( آل عمران : 32) یعنی میری اتباع کرو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔پس آپ کا دل ٹیڑھا ہونے کا کیا سوال ہے۔آپ کی پیروی تو گناہوں کی بخشش کے سامان کرنے والی ہے۔آپ کا اوڑھنا بچھونا، جینا مرنا خدا تعالیٰ کے لئے تھا۔آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ نیند میں بھی میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دماغ میں اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد ہوتی ہے۔پس آنحضرت ﷺ کی دعا ہمارے لئے نمونہ قائم کرنے کے لئے تھی جو آپ کیا کرتے تھے اور امت کے لئے تھی کہ ان کے دل کبھی ٹیڑ ھے نہ ہوں اور جب مسیح و مہدی کا زمانہ آئے تو آنے والے مسیح موعود کو مان لیں۔کاش کہ مسلمان اس اہم نکتہ کو سمجھیں۔اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک دفعہ سچائی کو دیکھ لینے کے بعد، ان لوگوں کی نسلوں میں پیدا ہونے کے بعد جنہوں نے سچائی کو پایا اور اس کی خاطر قربانیاں دیں پھر انسان راستے سے بھٹک جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھنے اور ان سے حصہ لینے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے بن جائیں۔یہ مسلمان بھی سوچیں اور غور کریں۔آج کل بھی دیکھ لیں کیا مسلمانوں کے حالات انہی باتوں کی نشاندہی نہیں کر رہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے بنے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور آنحضرت کی دعاؤں کی قبولیت کے نشان کے طور پر جو مسیح موعود آیا اس کو مسلمان اس لئے نہیں مانتے کہ اب ہمیں کسی ہادی کی ضرورت نہیں۔دراصل یہ آج کل کے نام نہاد علماء اور مولوی کے مفاد میں نہیں ہے کہ امت مسلمہ مسیح موعود کو مانے کیونکہ اس سے ان کی دکانداری ختم ہوتی ہے۔اور بہانہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی یا مصلح نہیں آسکتا کیونکہ آپ کی خاتمیت نبوت پر حرف آتا ہے۔پھر کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے سامنے ہے ہمیں کسی مسیح مہدی یا مصلح کی ضرورت نہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی جیسا کہ پہلے بھی ایک دفعہ میں اس پہ کافی تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں خلافت کی ضرورت کا انکار نہیں کرتے۔لیکن جاہل یہ نہیں سمجھتے کہ مسیح موعود کے بغیر خلافت کا کوئی تصور پیدا ہو ہی نہیں سکتا اور مسیح موعود کا آپ کی اُمت میں سے آنا ہی آنحضرت ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا ثبوت ہے۔لیکن ان لوگوں کا قرآن سمجھنے کا دعویٰ تو ہے لیکن یہ چیز ان کو سمجھ نہیں آتی اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ان کا یہی فہم قرآن کریم ہمارے سامنے ہے کہ کسی ہادی کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم بھی انہی پر کھلتا ہے یا انہی پر اس کی تعلیم روشن ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے چنیدہ ہوں اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی اللہ تعالیٰ کے وہ چنیدہ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے اسرار ہمیں کھول کر بتائے ،اُن راستوں کی نشاندہی کی جن سے اس کا فہم حاصل ہوسکتا ہے۔