خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 484 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 484

خطبات مسرور جلد ششم 484 خطبہ جمعہ فرموده 21 نومبر 2008 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” دینی علم اور پاک معارف کے سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے پہلے کچی پاکیزگی کا حاصل کر لینا اور ناپاکی کی راہوں کا چھوڑ دینا از بس ضروری ہے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔لَا يَمَسُّة إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (الواقعہ: 80 ) یعنی خدا کی کتاب کے اسرار کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو پاک دل ہیں اور پاک فطرت اور پاک عمل رکھتے ہیں۔دنیوی چالاکیوں سے آسمانی علم ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے“۔(ست بچن۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 126) پھر آپ فرماتے ہیں: " قرآنی حقائق صرف انہیں لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے“۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 612۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) پھر آپ فرماتے ہیں: ” کہتے ہیں کہ ہم کو سیح و مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے اور ہم سیدھے راستے پر ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ سوائے پاکوں کے اور کسی کی فہم اُس تک نہیں پہنچتی۔اس وجہ سے ایک ایسے مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو اور بینا بنایا ہو۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الواقعۃ۔آیت 80۔جلد چہارم۔صفحہ 308) پس اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہے اور صاف کیا ہے اور فہم قرآن عطا فرمایا ہے۔پس یہ لوگ جتنا بھی زور لگالیں مسیح موعود کی مخالفت کر کے کبھی یہ قرآن کریم کے اسرار کو سمجھ نہیں سکتے۔اور جتنی بھی دعائیں کر لیں ، جب تک مسیح موعود کو ماننے کی طرف عملی قدم نہیں اٹھا ئیں گے ان کے دل ٹیڑھے رہیں گے۔پس اُن کی حالت دیکھ کر جہاں ہمیں احمدی ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے وہاں ہمیشہ ہر قسم کے ٹیڑھ سے بچنے کے لئے دعا ئیں بھی کرتے رہنا چاہئے۔اور جوں جوں دنیا مادیت کی طرف بڑھ رہی ہے اور خدا تعالیٰ کو بھول رہی ہے پہلے سے بڑھ کر یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس انعام کی برکت سے بھی محروم نہ کرے۔ہمیشہ ہمیں ثبات قدم عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کو اپنی رحمت سے بڑھائے۔رحمت عطا ہونے کی دعا بھی اللہ تعالیٰ نے ہی سکھائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت انہی کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار اور ایمان میں بڑھنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف میں ایک جگہ فرمایا ہے وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا (الاحزاب :44) یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمانداروں سے خاص ہے۔جس سے کا فر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں“۔پھر فرمایا ” جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے، ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے“۔فرمایا: إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِيْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ (الاعراف: 57) یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں۔پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے إِنَّ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا وَجَهَدُوْا فِي سَبِيْلِ