خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 480 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 480

480 خطبہ جمعہ فرموده 21 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ایک مومن بندے کو سکھائی کہ اس ہدایت پر ہم صرف قائم ہی نہ رہیں بلکہ یہ دعا کریں کہ اپنی طرف سے رحمت عطا کر، اپنی اس رحمت کی چادر میں لپیٹ لے جو ہمیشہ ہر شر سے محفوظ رکھے اور ہمارے ایمان میں اضافہ کرتی رہے۔ہم ایمان میں ترقی کرتے رہیں ، ہم ایقان میں ترقی کرتے رہیں ، ہم تقویٰ میں ترقی کرتے رہیں، ہمارا ہر آنے والا دن ہمیں ایمان اور تقوی میں گزشتہ دن سے آگے بڑھانے والا ہو۔پس یہ خوبصورت دعا ہمیشہ ہر احمدی کا روز مرہ کا معمول ہونا چاہئے اور اگر حقیقی رنگ میں یہ ہمارا معمول ہوگی تو ہم اپنی کمزوریوں پر نظر رکھنے میں بھی شعوری کوشش کرنے والے ہوں گے۔اپنی عبادتوں کی طرف بھی دیکھنے والے ہوں گے۔اپنی عبادتوں اور نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور نتیجہ نمازیں بھی ہماری حفاظت کر رہی ہوں گی۔ایسے اعمال بجالانے کی کوشش کرنے والے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ اعمال ہیں کیونکہ یہی اعمال ایمان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، ہدایت پر قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ يَهْدِيْهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيْمَانِهِمْ ( سورة يونس آیت نمبر (10) یعنی یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اور مناسب حال عمل کئے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے ہدایت دے گا۔پس جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال ہدایت کا راستہ دکھانے کا باعث بنتے ہیں تو ایک مومن جب رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا کی دعا پڑھے گا تو اس کی برکات سے فیض پانے کے لئے ، اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لئے ، ہر کبھی اور ٹیڑھے پن سے بچنے کے لئے ، دعا کے ساتھ اپنے عمل بھی اسی طرح ڈھالنے کی کوشش کرے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔اپنے ایمان کو بچانے کے لئے جو دعائیں ہم کرتے ہیں تبھی قبولیت کا درجہ پائیں گی جب اس کے لئے ہم اپنی عبادتوں میں بھی تسلسل رکھیں گے اور اعمال صالحہ بجالانے کی بھی کوشش کریں گے۔نظام جماعت سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔چھوٹی چھوٹی دنیاوی باتوں کو اپنے ایمان پر ترجیح نہیں دیں گے۔کسی جماعتی کارکن کے ساتھ معمولی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے نظام جماعت کو اعتراض کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔پس جب انسان یہ دُعا کرتا ہے تو ہر وقت ایک کوشش کے ساتھ راستے کی ٹھوکروں سے بچنے کی کوشش بھی کرنی ہوگی۔ایک توجہ کے ساتھ یہ کوشش کرنی ہوگی۔اگر کسی کے خلاف اس کے اپنے خیال میں جماعتی طور پر کوئی غلط فیصلہ بھی ہوا ہے تو جہاں تک اپیل کا حق ہے اسے استعمال کرنے کا ہر ایک کو حق ہے،اسے استعمال کر کے پھر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے بجائے اس کے کہ پورے نظام پر بدظنی کرے۔دنیاوی نقصان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان سمجھ کر برداشت کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ورنہ اگر شکوے پیدا ہونے شروع ہوں تو پھر یہ بڑھتے بڑھتے جماعت سے دُور لے جاتے ہیں ، خلافت سے بھی بدظنیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔