خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 477
477 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 14 نومبر 2008 کو بھی ہمیشہ قائم رکھیں اور اپنے بچوں اور اپنی اولادوں کی طرف سے بھی ہمیشہ آنکھیں ٹھنڈی رکھیں اور حقیقت میں ہر احمدی گھر میں تقویٰ پر قائم رہنے والے لوگ ہوں۔احمدی معاشرے میں ہر شخص تقویٰ پر چلنے والا ہو اور یہی چیز پھر تقو خلافت کے انعام سے بھر پور فائدہ اٹھانے والا بنائے گی اور یہی بات آنحضرت ﷺ کی غلامی میں آنے والے مسیح و مہدی اور امام الزمان کی جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے والا بنائے گی۔پس خوش قسمت ہیں ہم میں سے وہ جو اس اصل کو سمجھتے ہوئے وہاب خدا سے جب مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی انہیں ایسے ایسے طریق سے قرۃ العین عطا فرماتا ہے جس کا ایک انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔اولاد کے ضمن میں یہاں ایک اور بات بھی میں کہنی چاہتا ہوں جو بعض گھروں کے ٹوٹنے کا باعث بن رہی ہوتی ہے یا میاں بیوی کے آپس کے ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے اولاد پر برا اثر ڈال رہی ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض میاں بیوی کے تعلقات اس لئے خراب ہو جاتے ہیں یا خاوند اپنی بیوی سے اس لئے ہر وقت ناراض رہتا ہے کہ لڑکے کیوں پیدا نہیں ہوتے ؟ لڑکیاں کیوں صرف پیدا ہوتی ہیں؟۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِلهِ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاءُ إِنَاثاً وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ (الشوری: 50 ) آسمان وزمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے۔وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے عطا کرتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔ایک اور جگہ فرمایا جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں دونوں ملا کر بھی دیتا ہے۔تو اب جو اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اس میں کسی پر الزام دینا تقویٰ سے ہٹنے والی بات ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل اور علاج کے طریقے اس زمانے میں عطا فرما دیئے ہیں ان کے استعمال سے بہتوں کو فائدہ ہوتا ہے اور جن کو لڑکوں کی خواہش ہوتی ہے ان کے لڑکے پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن یہاں بھی بعض اوقات اپنے خالق ہونے کا اور اپنی مرضی کا اظہار فرماتا ہے۔لاکھ علاج کروالیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔تو اس بات پر بیویوں کی زندگی اجیرن کر دینا کہ تمہارے لڑکیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں یالڑکیوں کو باپ کا اس طرح پیار نہ دینا جس کا وہ حق رکھتی ہیں بلکہ ہر وقت انہیں طعنے دینا، بچیوں کے دلوں میں بھی باپوں کے لئے نفرت پیدا کر دیتا ہے۔بعض ایسے معاملات جب سامنے آتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگ بھی اس زمانہ میں ہیں جو بچوں پر اس طرح ظلم کر رہے ہیں جن کا ذکر پرانے عرب کے جہالت کے زمانے میں ملتا ہے کہ لڑکی کی پیدائش سے ان کے چہرے سیاہ ہو جاتے ہیں۔پس یہ جہالت کی باتیں ہیں اس سے ہر مومن کو ، ہر احمدی کو بچنا چاہئے۔میں ایک احمدی فیملی کو جانتا ہوں، پرانی بات ہے ، ان کے لڑکیاں پیدا ہوتی تھیں۔چار پانچ بیٹیاں پیدا ہو گئیں۔انہوں نے بیٹے کی خاطر دوسری شادی کر لی۔اس بیوی سے بھی دو تین لڑکیاں پیدا ہوئیں۔انہوں نے بیٹے