خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 467
467 خطبہ جمعہ فرموده 7 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم آپ کو ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنی دعاؤں کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح انعامات سے نواز رہا ہے۔ایک جوش کے ساتھ تبلیغ کرنے کی ضرورت ہے۔ایک جوش کے ساتھ مالی قربانی کی ضرورت ہے اور یہی حقیقی شکرانہ ہے اور یہی دشمنوں کی کوششوں کا جواب ہے۔اس آیت میں جو دوسری بات بیان کی گئی ہے وہ یہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ مال خرچ کرو۔ہر عظمند جانتا ہے کہ یہاں مال خرچ کرنے سے مراد خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔جس سے لٹریچر وغیرہ کی اشاعت کی تبلیغی ضروریات پوری ہوں۔مساجد کی تعمیر ہو سکے۔نئے مشن کھل سکیں۔مبلغین تیار ہوسکیں۔پہلے تو قادیان میں ایک جامعہ احمدیہ تھا اور ایک ربوہ میں۔دو جامعہ تھے۔اب مبلغین کی نئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اور مبلغین کو تیار کرنے کے لئے کئی جگہ جامعات کھل چکے ہیں تا کہ جو نئی ضروریات آئندہ پیش آنے والی ہیں ان کو پورا کیا جا سکے۔برطانیہ بھی ان خوش قسمت ملکوں میں سے ہے جہاں جامعہ احمدیہ قائم ہے۔تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مال خرچ کرو تو اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صرف ایک کام کر کے بیٹھ نہ جاؤ بلکہ جس طرح تمہارے لئے نمازوں کی طرف مستقل توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، خالص ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت ہے۔اسی طرح مالی قربانیوں کی بھی ضرورت ہے۔ایک دفعہ کی مالی قربانی سے تمہارا فرض پورا نہیں ہو جاتا۔ایک مسجد بنانے سے مالی قربانیوں میں کمی نہیں آنی چاہئے۔تھوڑا سا لٹریچر شائع کرنے سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ بہت ہو گیا۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے نئے راستے بھی اللہ تعالیٰ خود بخود کھول رہا ہے اور اس کے لئے اخراجات کی بھی ضرورت ہے۔ان نئے راستوں میں جیسے ہم دیکھتے ہیں ایم ٹی اے بھی ہے۔آج پہلی دفعہ یہاں اس شہر سے براہ راست دنیا خطبہ بھی سن رہی ہے۔ایم ٹی اے کا تبلیغ کے میدان میں بہت بڑا کردار ہے۔دنیا میں اس کی وجہ سے نہ صرف احمدیت کا تعارف ہورہا ہے بلکہ اکثر ممالک کی اکثر جگہوں پر احمدیت اور اسلام کا پیغام اس کے ذریعہ سے سے پہنچ چکا ہے۔اب صرف ملکوں یا چند شہروں میں پیغام پہنچا دینا ہی کافی نہیں ہم نے دنیا کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر قصبے اور ہر گلی میں اس کا پیغام پہنچانا ہے اور بہر حال اس کے لئے قربانیاں دینے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔اسی لئے آپ لوگ اپنے عہدوں میں یہ عہد کرتے ہیں کہ جان و مال ، وقت اور عزت قربان کروں گا۔کس لئے؟ بغیر کسی مقصد کے لئے تو نہیں کرنا؟ اللہ تعالیٰ کے دین کا پیغام پہنچانے کے لئے کرنا ہے۔آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کے لئے کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ احباب جماعت کے دل میں وہ خود جوش ڈالتا ہے کہ وہ مالی قربانی کریں۔آج دنیا جب مالی بحران میں گرفتار ہے احمدی کو اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ تمہاری عبادتیں اور تمہاری مالی قربانیاں تمہیں اس کے