خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 466
خطبات مسرور جلد ششم 466 خطبہ جمعہ فرموده 7 نومبر 2008 نماز کی حقیقت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: نماز کیا چیز ہے؟ وہ دعا ہے جو تیج تمید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تفرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا منغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجر قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجز بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضر عانہ ادا کر لیا کرو تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔“ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 68-69) اور جب اثر ہوگا تو پھر تقویٰ کے معیار بھی بڑھیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کا قرب نماز کو سمجھ کر پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔اب جبکہ اس مسجد کی تعمیر کے بعد آپ کی ذمہ داری بڑھے گی کیونکہ میں نے یہی دیکھا ہے کہ مسجد کی تعمیر کے ساتھ عموماً تعارف بڑھتا ہے اور نئے راستے تبلیغ کے کھلتے ہیں تو اس کے لئے بھی اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی ضرورت ہے تا کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش پہلے سے بڑھ کر ہو۔اور ان نمازوں کی وجہ سے آپ کو اپنی اصلاح کے ساتھ احمدیت کا پیغام پہنچانے کے بہتر مواقع بھی حاصل ہوں گے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بہتر نتائج بھی نکلیں گے۔اب اس آیت میں بیان کردہ دوسرے حکموں کی طرف آتا ہوں۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ بریڈ فورڈ کی مسجد اور ہارٹلے پول کی مسجد کی بنیاد میں نے ایک دن کے وقفہ سے رکھی تھی۔پہلے بریڈ فورڈ کی ، اس سے اگلے دن ہارٹلے پول کی مسجد۔لیکن ہارٹلے پول کی مسجد آج سے دو سال پہلے مکمل ہو گئی کیونکہ چھوٹی تھی اس لئے جلدی مکمل ہو گئی۔لیکن بریڈ فورڈ کی مسجد کو کچھ عرصہ لگ گیا۔بہر حال جو بات میں کہنی چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہارٹلے پول کی مسجد کا جب افتتاح ہوا تو اس وقت بھی یہ اتفاق تھا یا اللہ تعالیٰ کا خاص تصرف تھا کہ تحریک جدید کے سال کا وہاں میں نے اعلان کیا اور لندن سے باہر تحریک جدید کے نئے سال کا جو پہلا اعلان میری طرف سے ہوا تھا وہ وہیں تھا۔اور آج آپ کی مسجد کے افتتاح پر بھی اتفاق سے وہ دن ہے جب تحریک جدید کا پران سال ختم ہوا اور نئے سال کا آغاز ہورہا ہے۔تحریک جدید کے قیام کی وجہ دشمنان احمدیت کی بڑھتی ہوئی دشمنی تھی جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تحریک جدید کا اجراء فرمایا تو اس وقت دشمن کے احمدیت کو ختم کرنے کے بڑے شدید منصوبے تھے۔لیکن آپ نے جب جماعت کے سامنے یہ تحریک رکھی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس منصوبے سے احمدیت کی تبلیغ پہلے سے زیادہ بڑھ کر اور شان سے ہندوستان سے باہر کے ممالک میں پھیلی۔آج ہم جو مسجد میں بنارہے ہیں یا مشن ہاؤسز کھول رہے ہیں، سینٹرز لے رہے ہیں اور جماعتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یہ اصل میں اسی تحریک کا ثمرہ ہے۔پس آج