خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 465
465 خطبه جمعه فرموده 7 نومبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم اللہ ہر احمدی کو اس سے محفوظ رکھے کہ نمازیں صرف بے فائدہ ہی نہیں ہیں بلکہ دوزخ کی طرف لے جانے والی ہیں۔ہم مسجد کی باتیں کر رہے ہیں کہ اس کا مقصد تقویٰ کا قیام ہونا چاہئے اور اس تقویٰ کے حصول کے لئے ایک مسلمان نماز پڑھتا ہے اور اس کے بنانے سے اللہ تعالیٰ جنت میں گھر دیتا ہے۔یہاں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اندار فرمایا ہے۔تو ہر وہ شخص جو مسجد کے لئے قربانی دینے والا ہے اُسے پہلی بات ہمیشہ یہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ مسجد بناتے ہوئے نیت صاف ہو، ہر قسم کے فتنہ و فساد سے پاک ہو۔اب جو نمازیں پڑھنے والے ہیں ان کے بارہ میں فرمایا کہ اگر تقویٰ نہیں تو بے شک ظاہری نمازیں تم لوگ پڑھ رہے ہو یہ بے فائدہ ہے۔انسان اگر غور کرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ ” جہاں تقویٰ نہیں وہاں حسنہ حسنہ نہیں اور کوئی نیکی نیکی نہیں ہے۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 410 احکام جلد 5 نمبر 32 مورخہ 31 /اگست 1901 صفحہ 3) پس ہمیں اس بات پر ہی خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم نے ایک بہت خوبصورت مسجد بنالی جو دُور سے نظر آتی ہے اور اس شہر میں بڑی نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔اصل خوبصورتی اس کی اس وقت ظاہر ہو گی جب ہم تقویٰ پر چلتے ہوئے اس مسجد کی تعمیر کے مقاصد کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے ان مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس مسجد کی تعمیر کے ساتھ خالص اللہ کا ہوکر اپنی نمازوں کی ادائیگی کی کوشش کرے۔اور پہلے سے بڑھ کر آپس میں پیار محبت اور بھائی چارے کے تعلقات پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے کی غلطیوں سے صرف نظر کرنے والا ہو، ان کو معاف کرنے والا ہو۔اپنے دلوں کو ہر قسم کے کینوں اور بغضوں سے پاک کرنے والا ہو۔اپنوں اور غیروں ہر ایک کے حقوق ادا کرنے والے ہوں۔عاجزی اور انکسار دلوں میں پیدا کرنے والے ہوں تبھی اس مسجد کی تعمیر سے فیض پاتے ہوئے جنت میں خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے گھر میں ہم جگہ پانے والے ہوں گے۔تبھی ہماری نمازیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے والی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ مقام حاصل کرنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو آیت میں نے شروع میں تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے دو اہم حکم عطا فرمائے ہیں جو قرآن کریم کی ابتداء سے لے کر آخر تک مختلف حوالوں اور مختلف طریق پر مسلسل بیان ہوئے ہیں اور ان میں سے پہلا حکم نمازوں کا قیام ہے۔جس کے بارہ میں بھی میں نے تھوڑی سی توجہ دلائی ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کے بعد تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنی نمازوں کی حفاظت ہر مومن پر فرض ہے اور یہی بات پھر مزید تقوی میں بڑھائے گی۔