خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 461 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 461

خطبات مسرور جلد ششم 461 خطبہ جمعہ فرموده 7 نومبر 2008 تعمیر کرتے وقت پیدا ہوا ہوگا۔کیونکہ اگر یہ جذ بہ نہیں تو ایسی مسجد کے بدلے اگلے جہان میں مسجد بنانے یا گھر بنانے کا کیا سوال ہے، اس دنیا میں ہی ایسی مسجد کو زمین بوس کرنے کا حکم دیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو۔چنانچہ جب مخالفین اور منافقین نے اللہ کے نام پر دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ نے اسے گرانے کا حکم دیا۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا صِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَارْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ۔لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ أَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ۔فِيْهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوْا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ۔أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَمْ مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ۔وَاللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (التوبۃ: 107-109) اور وہ لوگ جنہوں نے تکلیف پہنچانے اور کفر پھیلانے اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ایسے شخص کو کمین گاہ مہیا کرنے کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول سے پہلے ہی سے لڑائی کر رہا ہے ایک مسجد بنائی ، ضرور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے۔جبکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یقیناوہ جھوٹے ہیں۔تو اس میں کبھی کھڑا نہ ہو یقیناوہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہو زیادہ حقدار ہے کہ تو اس میں نماز کے لئے قیام کرے۔اس میں ایسے مرد ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ وہ پاک ہو جائیں اور اللہ پاک بننے والوں سے محبت کرتا ہے۔فرمایا: پس جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر رکھی ہو کیا وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھو کھلے ڈھے جانے والے کنارے پر رکھی ہو۔پس وہ اسے جہنم کی آگ میں ساتھ لے گرے اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ہم جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم مسیح محمدی کے غلاموں میں سے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے دنیا میں اس زمانے میں اپنی پہچان کرانے کے لئے بھیجا تھا۔جن کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے کہ بندے کو خدا کے قریب کرنا اور مخلوق خدا کا حق ادا کرنا۔مخلوق کو مخلوق کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانا۔ہم سے تو کبھی یہ توقع کی نہیں جاسکتی کہ ہماری مسجد میں کبھی بھی ایسی مسجدیں ہوں جن کا مقصد تکلیف پہنچانا ہو۔یا جس میں اللہ معاف کرے کبھی کفر کی تعلیم دی جائے یا مومنوں میں پھوٹ ڈالنے کا ذریعہ بنے یا اللہ اور رسول کے مخالفین کو کبھی ہم پناہ دینے والے ہوں۔پس جب ہم کبھی ان برائیوں کے کرنے والے نہیں ہو سکتے تو پھر ہمیں اپنے ماحول میں اس بات کو پھیلانا ہوگا۔اس مسجد کی تعمیر کے بعد پہلے سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچانا ہوگا کہ آنحضرت کی غلامی میں جس مسیح و مہدی