خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 456

خطبات مسرور جلد ششم 456 خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 پاس بھی ایسی کار ہو۔اور نہ کسی عزیز کا گھر دیکھ کر فوری طور پر گھر خریدنے کی خواہش بھڑ کے گی۔بے شک گھر ہونا چاہئے ، ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے لیکن سود کے پیسے سے نہیں۔اسی طرح ملک ہیں۔دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے کی بجائے اگر تجارت سے ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھائیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔چھوٹے سے چھوٹے غریب ملکوں کو بھی اس تحفظ کا احساس ہو کہ میرے وسائل، جو ہمارے ملک کے وسائل ہیں ہماری ترقی کے لئے خرچ ہوں گے، استعمال ہوں گے۔اگر بین الاقوامی مدد ہے تو ملکوں کو یہ احساس ہو کہ یہ ہماری بھلائی کے لئے ہے نہ کہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے۔پھر لیڈرز اپنے ملک کی دولت پر مجموعی طور پر جو ملک کی دولت ہے اس کو ایمانداری سے ملک کے مفاد کے لئے استعمال کریں تو فساد ختم ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے حقدار کو اس کا حق ادا کیا جائے تو شیطان کے مس سے بچ سکتے ہیں۔سودی نظام سے بچیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکتے ہیں۔اگر دنیا اسے ہر سطح پر نہیں سمجھے گی تو پھر جنگ کی صورت رہے گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقتا فوقتا اسی طرح دنیا والوں کو مار پڑتی رہے گی۔پس آج کل کے بحران کا حل مومنوں کے پاس ہے اور تمام مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کو اس بحران سے نکلنے اور نکالنے کے لئے پہل کرنی چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْالَا تَأْكُلُوا الرِّبوا أَضْعَافًا مُضْعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (آل عمران : 131) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو سو د در سود نہ کھایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔پس اللہ کرے کہ فلاح پانے کے لئے کم از کم مسلمان دنیا کو یہ تقویٰ حاصل ہو جائے اور خاص طور پر امیر مسلمان ممالک کو جنہوں نے سُود کی کمائی کے لئے اپنی رقمیں لگائی ہوئی ہیں۔لیکن اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی اس آواز کو بھی سننا ہو گا جو اس کے مسیح و مہدی کے ذریعہ ہم تک پہنچی کیونکہ اس کے بغیر اس زمانے میں کوئی نجات نہیں، کوئی تحفظ نہیں ، کوئی ضمانت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں۔زمین بالکل مر چکی ہے۔یہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :42 ) کا ہو گیا ہے۔جنگل اور سمند ر بگڑ چکے ہیں۔جنگل سے مراد مشرک لوگ اور بحر سے مراد اہل کتاب ہیں۔جاہل اور عالم بھی مراد ہو سکتے ہیں۔غرض انسانوں کے ہر طبقے میں فساد واقع ہو گیا ہے۔جس پہلو اور جس رنگ میں دیکھو دنیا کی حالت بدل گئی ہے۔روحانیت باقی نہیں رہی اور نہ اس کی تاثیر میں نظر آتی ہیں۔اخلاقی اور عملی کمزوریوں میں ہر چھوٹا بڑا مبتلا ہے۔خدا پرستی اور خداشناسی کا نام و نشان مٹا ہوا نظر آتا ہے۔اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ آسمانی پانی اور نور نبوت کا نزول ہوا اور مستعد دلوں کو روشنی بخشے۔خدا تعالیٰ کا شکر کرو اس نے اپنے فضل سے اس وقت اس نور کو نازل کیا ہے مگر تھوڑے ہیں جو اس نور سے فائدہ اٹھاتے ہیں“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ 52۔زیر سورۃ الروم آیت نمبر 42)