خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 457
خطبات مسرور جلد ششم 457 خطبه جمعه فرموده 31 اکتوبر 2008 خدا تعالی دنیا کوتو فیق دے کہ اس نور کے دائرے کے اندر آجائیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کی وجہ سے جو اس دنیا میں فساد برپا ہے اس سے بچ سکیں کیونکہ اب خدا کی پہچان کروانے ، اس تک پہنچانے کا یہی ایک ذریعہ ہے جو بندے کو خدا کا صحیح عابد بنائے گا، جو آنحضرت ﷺ کا صیح اور حقیقی مطیع اور فرمانبردار بنائے گا۔اللہ کرے کہ دنیا اس اہم بنیادی اصول اور نکتے کو پہچان لے۔حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ایک تو یہ اعلان ہے کہ عصر کی نماز کا وقت آجکل سوا دو بجے سے شروع ہو جاتا ہے تو ابھی میں جمعہ کے بعد عصر کی نماز بھی پڑھاؤں گا۔صرف آج جمعہ کے لئے۔کل سے نہیں۔اور دوسرے یہ بھی وجہ ہے کہ لجنہ کا اجتماع ہورہا ہے۔نمازوں کے بعد انشاء اللہ ایک نماز جنازہ پڑھاؤں گا جو میری خالہ زا دامتہ المجیب بیگم صاحبہ کا ہے جو نواب مصطفیٰ خان صاحب کی اہلیہ تھیں۔21 اکتوبر کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کی وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔66 سال ان کی عمر تھی۔صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب ابن صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی یہ سب سے بڑی بیٹی اور اسی طرح حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی نواسی بھی تھیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ان کی ربوہ میں تدفین ہوئی ہے۔میرے ساتھ ان کا بڑا اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور جنت میں جگہ دے۔ان کی دو بیٹیاں رملہ خان۔جو ہمارے ڈاکٹر افضال الرحمن صاحب جو امریکہ میں ہیں ان کی اہلیہ ہیں۔دوسری صائمہ خان۔باسل احمد خاں صاحب جو حضرت خلیفہ المسح الثالث کے نواسے اور حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے پوتے ہیں ان کی اہلیہ ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے۔نمازوں کے بعد انشاء اللہ جیسا کہ میں نے کہا نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شماره 47 مورخہ 21 نومبر تا 27 نومبر 2008ء صفحہ 5 تا9)