خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 455 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 455

455 خطبہ جمعہ فرموده 31اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم آج کل امن کی بحالی کے نام پر جو جنگیں ہو رہی ہیں یہ جغرافیائی حدود پر قبضہ کرنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ و سائل پر قبضہ کرنے کے لئے ہیں۔اگر کوئی حکومت ان کی اچھی شرائط مان لے تو وہیں امن بھی قائم ہو جاتا ہے یا اپنی مرضی کا مقامی شخص وہیں ان کا صدر بنا دیا جاتا ہے یا حکومت بنادی جاتی ہے ورنہ پھر جنگیں لمبی ہوتی چلی جاتی ہیں۔کیونکہ پیچھے سے رقم ان کو فیڈ (Feed) ہوتی رہتی ہے اور یہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہے اس لئے ایک وقت آتا ہے کہ طاقتور کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا نظارہ دکھاتا ہے اور پھر اسے ذلیل کر دیتا ہے اور یہ ہم نے اب اس زمانے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ تمام تر کوششوں اور بہتر معاشی حالات کے باوجود جب اللہ تعالیٰ نے جھٹکا دیا تو تمام بڑی طاقتوں کی جو معیشتیں تھیں وہ ایک ٹھوکر سے گرتی چلی گئیں۔وہ رقمیں دینے والے ادارے بھی کسی کام نہ آ سکے بلکہ حکومتوں کو اپنے خزانے سے ، لوگوں کے مال سے، ان کو سہارا دینا پڑا۔جن سے قرضے لئے جاتے تھے انہی کو سہارے بھی دیتے جارہے ہیں اور وہاں بھی پبلک کا پیسہ استعمال ہو رہا ہے لیکن کوئی ضمانت نہیں کہ کس حد تک اور کتنی جلدی حالات بہتر ہوں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ دنیا داراب خود بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ جیسی طاقتور معیشت کے بھی جلدی سنبھلنے کے امکانات نہیں ہیں۔میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ دوسروں کے وسائل پر نظر ہے اور ان لوگوں کو نظر آ رہا ہے کہ دوسروں کے وسائل پر نظر ہے۔اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے جو دنیا کے امن بر باد کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ (الحجر: 89) اور ان کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نہ دیکھو جو ہم نے انہیں عارضی دنیا کا سامان دیا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ جو مال تمہارا نہیں ہے، جو تمہیں نہیں ملا اس کے پیچھے نہ پڑو۔پس یہ ایک اصولی ہدایت ہے کہ ہر ایک اپنے وسائل پر انحصار کرے اور مومنوں کے لئے خاص طور پر ہدایت ہے کہ دنیا کا مال و متاع عارضی چیز ہے تمہاری اس طرف نظر نہ ہو۔کیونکہ یہ دائی رہنے والی چیز نہیں ہے بالکل عارضی چیزیں ہیں۔ایک مومن کو اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی فکر کرنی چاہئے۔اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ عارضی مال و متاع رکھنے والے بھی تباہی کی طرف جا رہے ہیں اور اس کی خواہش رکھنے والوں کا بھی یہی انجام ہوگا۔پس دنیا کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اپنے وسائل کے اندر رہیں چاہے وہ گھر یلو سطح پر ہوں، معاشرے کی سطح پر ہوں ہلکی سطح پر ہوں، بین الاقوامی سطح پر ہوں۔اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق سود سے بچیں۔گھر یلو سطح پر اگر قناعت ہو جائے تو نہ زائد گھر یلو ضروریات ہوں گی نہ قرض کی خواہش ہوگی۔نہ ہمسائے کا اچھا صوفہ یا کوئی چیز دیکھ کر یہ خیال ہو گا کہ میں بھی خریدوں۔نہ اپنے دوست کی اچھی کار دیکھ کر یہ خیال ہو گا کہ میرے