خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 454 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 454

خطبات مسرور جلد ششم 454 خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 یہاں اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا کہ سود چھوڑ دو۔فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرّبوا إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (البقرة: 279) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور چھوڑ دو جوسود میں سے باقی رہ گیا ہے اگر تم فی الواقع مومن ہو۔اللہ تعالیٰ سود لینے کی مناہی کے بارے میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأَذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُ وَسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرة: 280) اور اگر تم نے ایسانہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اور اگر تم تو بہ کرو تو اصل زر تمہارے ہی رہیں گے۔نہ تم ظلم کرو گے نہ تم پہ ظلم کیا جائے گا۔مومنوں کو خاص طور پر تنبیہ کی گئی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسی نظام یعنی سودی نظام کے اثرات ہر مذہب والے پر پڑ رہے ہیں چاہے وہ مسلمان ہے یا غیر مسلم ہے۔پہلے تو یہ بتایا تھا کہ شیطان اس وجہ سے تمہارے حواس کھو دے گا اور اس حواس کھونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سود میں ڈوبتے چلے گئے۔پتہ ہی نہیں لگ رہا کہ کس طرح خرچ کرنا ہے۔وہ سوچیں ہی ختم ہو گئیں جس سے اچھے بھلے کی تمیز کی جاسکتی ہو۔اور اب فرمایا اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے اور جب اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہو تو نہ دین باقی رہتا ہے اور نہ دنیا۔دین تو گیا ہی ،اس کے ساتھ دنیا بھی گئی۔مسلمان ممالک اگر خاص طور پر یہ جائزہ لیں۔ہر ملک کو یہ جائزہ لینا چاہئے لیکن ان ملکوں کو تو خاص طور پر جائزہ لینا چاہئے ) تو انہیں نظر آئے گا کہ سود کی وجہ سے امیر غریب کی خلیج وسیع ہوتی جارہی ہے ملکوں کے اندر بھی اور ایک دوسرے ممالک میں بھی، جو غریب مسلمان ممالک ہیں وہ غریب تر ہورہے ہیں۔جو امیر ہیں ، تیل والے ہیں وہ سمجھ رہے ہیں ہمارے پاس دولت ہے اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں پھر بے چینیاں پیدا ہوتی ہیں۔پھر بغاوتیں ہوتی ہیں مسلمان ملکوں کے اندر بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی۔جیسا کہ میں نے پاکستان کی مثال دی تھی۔وہاں بھی امیر غریب کا فرق بہت وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے اور ملک میں بے چینی کی وہاں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔دولت کے لالچ میں امیر غریب کے حقوق ادا نہیں کرتے اور اسی وجہ سے پھر مولوی کو اس ملک میں کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔اگر غریب کا حق صحیح طرح ادا ہوتا تو وہ خودکش بموں کے حملے جو غریبوں کے بچوں کو استعمال کر کے کروائے جاتے ہیں اس میں ان لوگوں کو آج اس طرح کامیابی نہ ہوتی۔گو اس کی اور بھی وجوہات ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔پس یہ جو ہنگامی حالتیں ہیں، غریب ملکوں میں بھی اور امیر ملکوں میں بھی جوا اور زیادہ ابھر کر سامنے آ رہی ہیں یہ اب اللہ تعالیٰ کے اعلان کا نتیجہ نکل رہا ہے۔پھر ماضی میں بھی ہم نے دیکھا اور آج کل بھی دیکھتے ہیں کہ سُود کے لئے دیا گیا جو روپیہ ہے یہ جرموں کی وجہ بن رہا ہے۔یہ روپیہ اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ اس کو استعمال کر کے دوسروں کے وسائل پر قبضہ کرو تا کہ یہ واپسی قرض بھی محفوظ ہو جائے اور آمد کا ذریعہ بھی مستقلاً بن جائے۔