خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 453
453 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 تین مختلف باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی اور اس میں بھی کہ زکوۃ ادا کرو۔غریبوں کا بھی حق ہے اور حکومت کا بھی حق ہے اور اسلام کی خدمت بھی ہے۔جبکہ سودی نظام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جب یہ حق ادا نہیں کرتے تو امیر، امیر تر ہوتا چلا جارہا ہے اور ایک حد تک ہی ہوگا۔پھر جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے تو وہی نتیجے نکلتے ہیں جو آجکل نکل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ پہلے بھی اس کی ہدایت دے چکا ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کا حق ادا کرو کیونکہ یہی حقیقت میں تمہارے مال میں اضافے کا باعث بنے گا نہ کہ سود۔پس اس اہم نکتے کو مسلمان ملکوں کو خاص طور پر یاد رکھنا چاہئے اور یہ بات ایسی ہے جس کو ان مغربی ممالک نے بھی کسی زمانے میں ریٹلا ئز (Realise) کیا۔جرمنی کی حکومت نے چند دہائیاں پہلے اس بات کو سمجھا اور وہ چاہتے تھے کہ سود ختم ہو جائے۔لیکن پھر بد قسمتی کہنا چاہئے کہ اپنی سوچ کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔اب بھی گزشتہ دنوں یہ خبر تھی اس کرائسز کے بعد شرح سود میں کمی کی وجہ سے معیشت میں کچھ بہتری پیدا ہوئی۔لیکن اصل حل یہی ہے کہ جو لے لیا وہ تو لے لیا۔وہ تو معاملہ ختم ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا۔جو بقایا سود ہے اس کو اب ختم کرو اور اسے معاف کر دو اور آئندہ سود لینے سے تو بہ کرو۔اور جو مومن ہیں ، جو مسلمان ہیں ان کو خاص طور پر بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔اگر یہ ہوگا تو پھر یہ جو چند سالوں بعد بار بار بحران آتے ہیں، معیشت کو دھچکے لگتے ہیں ، ساری دنیا میں ہر ایک ملک اور افراد کو مصیبت پڑ جاتی ہے اس سے بچ سکیں گے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الروم کی آیت نمبر 41 میں (جو میں نے تلاوت کی) یہ ساری باتیں بیان کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔پھر تمہیں رزق عطا کیا پھر وہ تمہیں مارے گا اور وہی پھر تمہیں زندہ کرے گا۔کیا تمہارے شرکاء میں سے کوئی ہے جو ان باتوں میں سے کچھ کرتا ہو؟۔وہ بہت پاک ہے۔وہ بہت بلند ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور پیدا کر کے پھر چھوڑ نہیں دیا۔رزق عطا کیا ہے۔وہ رزق عطا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے وہ اپنی تمام مخلوق کو رزق دیتا ہے جو جانور ہیں ان کو بھی رزق دیتا ہے، جو پرندے ہیں ان کو بھی رزق دیتا ہے۔تمام مخلوق کو اللہ تعالی ہی رزق دیتا ہے تو تمہیں بھی رزق دے گا اگر اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کرو گے۔پس اللہ فرماتا ہے تمہاری توجہ یہ رہنی چاہئے کہ ان حکموں کو ہر وقت اپنے سامنے رکھو، کیونکہ موت دینے والا بھی وہی ہے اور موت کے بعد زندہ کر کے اس کو اپنے سامنے حاضر بھی وہ کرے گا۔سوال و جواب بھی ہوں گے۔اس لئے نہ ظاہری شرک کرو۔نہ مخفی شرک کرو اور نہ ہلکا سا بھی اس کے حکموں سے انحراف کرنے کی کوشش کرو۔اور مسلمان کے لئے خاص طور پر یہ تنبیہ ہے۔اس سُودی کاروبار کا جو بیان ہے یہ ایسا خطر ناک ہے کہ ہم احمدیوں کو تو خاص طور پر اس سے بچنا چاہئے۔