خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 451
451 خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہی بہت زیادہ ہے اس میں مزید اضافہ ہوگا۔پھر جب یہ بیماری شروع ہو جاتی ہے تو اس کے اپنے بداثرات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سود پر انحصار کرنے والے یا اس کا کاروبار کرنے والے ایسے لوگ ہیں جیسے شیطان نے انہیں حواس باختہ کر دیا ہو۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبوا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَنُ مِنَ الْمَسَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرّبوا وَاَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الربوا۔فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهى فَلَهُ مَا سَلَفَ۔وَاَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ۔وَمَنْ عَادَ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقرة: 276 ) یعنی وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہیں ہوتے۔مگر ایسے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے اپنے مکس سے حواس باختہ کر دیا ہو۔یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہا یقیناً تجارت سود ہی کی طرح ہے جبکہ اللہ نے تجارت کو جائز اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آ جائے اور وہ باز آجائے تو جو پہلے ہو چکا اسی کا رہے گا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو کوئی دوبارہ ایسا کرے تو یہی لوگ ہیں جو آگ والے ہیں جو اس میں لمبا عرصہ رہنے والے ہیں۔باقی اثرات تو جو ہونے ہیں وہ تو ہیں ہی۔اس وجہ سے جن کی رقم ضائع ہوگئی یا کم از کم یہ خوف ہو گیا کہ کچھ عرصہ کے لئے ہمیں رقم نہیں ملے گی یا باوجو دحکومتوں کی تسلیوں کے یہ خوف کہ ہماری رقم ضائع ہو جائے گی تو یہ خوف ہی بہت خطرناک چیز ہے۔پھر جن کے پروگرام تھے کہ اپنی جائیداد کوری مورگیج کروالیں گے پھر قرضے اتاریں گے تو ان کا بھی حال خراب ہے۔قرضے نہ ملنے کی وجہ سے مکان باوجود اس کے کہ ان کی قیمتیں کئی فیصد گر گئی ہیں، فروخت نہیں ہور ہے۔کیونکہ لوگوں کے پاس نقد نہیں ہے اور بینک والے قرض نہیں دے رہے کیونکہ بینک پہلے تو جرات کر رہے تھے اب ان کے پاس خود پیسہ نہیں ہے۔اب جب حالات بدلے ہیں تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح ہے جس طرح شیطان کے مس سے حواس باختہ ہو گئے ہیں، دنیا کی اکثریت جو اس میں ملوث تھی مخبوط الحواس ہو چکی ہوئی ہے۔اللہ رحم کرے۔اور لگتا ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ جب ایسی حالت ہو تو ڈیپریشن بھی بڑھتا ہے اور معاشرے میں ایک ابتری پیدا ہو جاتی ہے۔اس ڈیپریشن سے ان کا ہی ایک لطیفہ یاد آ گیا۔اقتصادیات والے یہ کہتے ہیں، ان کا انگریزی کا لطیفہ ہے کہ If my neighbour loses his Job, it is recession۔If i loose my Job it is depression۔یعنی اگر میرا ہمسایہ اپنی ملازمت سے فارغ ہوتا ہے، اس کی نوکری ختم ہوتی ہے تو یہ recession کہلاتا ہے اور اگر مجھے نوکری سے فارغ کر دیا جائے تو پھر depression ہو گیا۔اقتصادیات میں recession اور