خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 450 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 450

خطبات مسرور جلد ششم 450 خطبه جمعه فرموده 31 اکتوبر 2008 نے کہا وہ بھی لوگوں سے لے کر دیئے ہوتے ہیں، دوسرے کا پیسہ ہوتا ہے اور اس میں جیسا کہ میں نے بتایا کہ تیل کے ملکوں کی بہت بڑی رقم شامل ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں نے قرض دینے میں کھلے دل کا مظاہرہ کیا۔یہ صورت حال صرف یہاں نہیں ہے، امریکہ میں بھی ہے اور دنیا میں بھی ہے تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ قانون قدرت پھر اپنا کام کرتا ہے۔جب ایک حد کو پہنچ کر لوگوں کی قرض کی واپسی کی طاقت ختم ہوئی تو بنکوں کو ہوش آئی کہ ہمارا اپنا پیسہ تو قرض میں تھا نہیں، یہ تو دوسروں کا پیسہ تھا اور پھر انہوں نے مزید قرضے دینے بند کر دیئے اور نہ صرف ان غیر پیداواری مقاصد کے لئے قرضے دینے بند کر دیئے بلکہ پیداواری مقاصد کے لئے بھی قرضے دینے بند کر دیئے۔اس کا پھر یہی نتیجہ نکلا کہ پوری معیشت متاثر ہو گئی اور ملکوں کی معیشتوں کا کیونکہ ایک دوسرے پر انحصار ہے اس لئے پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔اس لئے کسی ملک کا یہ کہنا کہ ہمارے پاس وسائل ہیں اور ہمیں فرق نہیں پڑتا ، بالکل غلط ہے۔ایک تو وہ رقم جو مغرب میں ہے اس کے فوری ملنے کا امکان نہیں۔دوسرے جب معیشت بر باد ہوئی تو جو چیز ان کے پاس ہے یعنی تیل جس کو وہ کہتے ہیں کہ اپنی معیشت (Economy) کو سنبھال لیں گے اس میں بھی کمی ہوگی۔اس ہفتے کا ٹائمنر رسالہ ہے اس نے مضمون لکھا ہے، کچھ حقائق پیش کئے ہیں۔اس نے لکھا ہے کہ A sea of Debt کہ قرضوں کا ایک سمندر ہے اور ایسا سمندر جس کا پانی امریکہ، جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت سمجھتا ہے اس کی کشتی میں بھی اس حد تک بھر چکا ہے کہ وہ ڈول رہی ہے اور ڈوبنے کے قریب ہے۔اور اس نے لکھا کہ امریکہ کی معیشت اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ جو بھی وہ کوشش کر لیں اس کی جلد بحالی کا امکان نہیں ہے۔پھر یہ کہ معیشت کو جو جھٹکے لگ رہے ہیں اس سے دنیا کا کوئی ملک بھی اب محفوظ نہیں ہے۔مغربی ملکوں، خاص طور پر امریکہ کی معیشت کا جو حال بیان کیا گیا ہے اس کا یہ حال ہے کہ مثلاً کریڈٹ کارڈ کا ان ملکوں میں بڑا رواج ہے۔جس کو بغیر سوچے سمجھے استعمال کرنے کا رواج ہے۔اس کی اب پابندی لگ گئی ہے اور بہت حد تک اس میں پابندی لگ رہی ہے۔وہ جو لوگوں کی ایک لحاظ سے عیاشی بنی ہوئی تھی کہ بغیر سوچے سمجھے خرچ کئے جاتے تھے اس میں کمی آگئی۔کاروں کی سیل (Sale) کہتے ہیں کہ گزشتہ 15 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ہوائی سفروں میں کمی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بہت ساری کمپنیوں نے اپنی فلائٹس بند کر دی ہیں۔یہ دو چیزیں خاص طور پر ایسی ہیں جن میں تیل کا استعمال ہوتا ہے تو جب استعمال ہی نہیں تو رقم کہاں سے آئے گی۔کسی کو ضرورت ہی نہیں تو خود بخو داس کی طلب میں کمی ہو جائے گی اور جب طلب میں کمی ہوگی تو ظاہر ہے اس کا اثر پڑے گا۔پھر لوگوں کے جو تفریحی پروگرام ہیں، کھانے پینے کے، ریسٹورنٹس وغیرہ کے، اینٹرٹینمنٹ (Entertainment) کے ، ان ملکوں میں اس کا بہت زیادہ رواج ہے اس میں بھی کمی آگئی ہے اور جب اس میں کمی آئے ، خاص طور پر سردیوں میں کوئی آؤٹنگ (Outing) نہیں رہی تو پھر اس کا بعد میں یہ نتیجہ نکلے گا کہ ڈیپریشن جو ان ملکوں میں پہلے