خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 449
خطبات مسرور جلد ششم 449 خطبه جمعه فرموده 31 اکتوبر 2008 جب ان تیل کی دولت والوں کا روپیہ ان کے پاس آیا، ان بینکوں میں جمع ہوا تو ان مغربی ملکوں نے دیکھا کہ یہ تو بڑی تیزی سے ہمارے پاس مال آنے لگ گیا ہے تو انہوں نے اور زیادہ کھلے دل سے قرضے دینے شروع کر دیئے۔بنگ اپنا تو بہت تھوڑا سا خرچ رکھتے ہیں اور بقایا رقم کا بڑا حصہ یعنی 95،90 فیصد دوسروں کا استعمال ہو رہا ہے اور اس میں جیسا کہ میں نے کہا، ان ملکوں کا جو تیل کی دولت پیدا کر رہے ہیں اور کوئی تعمیری کام یا پیداواری انویسٹمنٹ تو انہوں نے کی نہیں، غیر پیداواری مقاصد پر یہ لوگ خرچ کر رہے ہیں۔تو بہت بڑی رقم ہے جو اس کے اوپر خرچ کی جاتی ہے۔مثلاً یہاں ایک بینک والے نے مجھے بتایا کہ جو بینکوں کی کل انویسٹمنٹ ہے اس کا تقریباً 45 فیصد حصہ وہ گھروں کے خریدنے کے لئے قرضے دینے پر خرچ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت ساری رقم دوسرے قرضوں میں چلی جاتی ہے اور تھوڑی سی رقم ہے جو پیداواری مقاصد کے لئے خرچ ہوتی ہے یا قرض دی جاتی ہے۔اس طرح آسان شرائط پر قرض دے دیا جاتا ہے۔آسان شرائط کے بارہ میں میرے سامنے بیٹھے ہوئے بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ اگر تین لاکھ کا مکان ہے تو پہلے 10-15 ہزار ان سے کیش مانگ لیا جاتا ہے حالانکہ پہلے خاص فیصد ہوتی تھی کہ اتنے فیصد دو گے تو تمہارا قرض منظور ہوگا اور بقایا تمام رقم بینک کا قرض ہوتا ہے۔پھر جو قرض لینے والا ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ شرح سود کتنی ہے، کتنا مجھے اس پر دینا پڑے گا، کتنا عرصہ تک میں دیتا چلا جاؤں گا اور کتنی زائد ادائیگی کرنی پڑے گی؟ وہ صرف یہ سوچ رکھتا ہے کہ چلو گھر خرید لو۔واپسی آہستہ آہستہ ہوتی رہے گی۔لیکن نہیں جانتا کہ ایک تو یہ لمبا عرصہ کی ادائیگی ہے دوسرے اس کی اپنی آمدنی محدود ہے۔اس کے وسائل محدود ہیں اور اس قرض کی ادائیگی میں۔پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جو وہ متحمل نہیں ہوسکتا۔کیونکہ عموماً مہنگائی دوسری چیزوں کی بھی بڑھ رہی ہے اور پھر گھر کے بھی اخراجات بڑھتے ہیں۔اگر وہ قرض اتارنے لگے تو گھر کو کس طرح چلائے۔بہر حال اس چکر میں پھر ایسا قرض لینے والا پھنستا چلا جاتا ہے اور پھر قرض بڑھتے چلے جاتے ہیں۔بعض لوگ یہاں پر اور دنیا میں ری مورگیج کا رواج ہے جو کرواتے ہیں اور پھر مزید قرضوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔کہنے کو تو ان کو رقم بینک سے مل گئی۔لیکن اگر سوچیں تو مزید قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا۔عارضی طور پر تو جان چھٹ گئی لیکن مستقل اُن کے اوپر ایک قرضہ چڑھ گیا۔پھر بعض لوگ ایسے ہیں بعض بینکوں نے ایسے Incentive دیئے ہوئے ہیں کہ اپنی جیب سے بھی کچھ نہیں دیا، معاہدہ بینک کے ساتھ ہو گیا۔مکان خرید لیا، کرایہ جمع سود بینک کو ادا کرتے رہے اور ساری زندگی کرا یہ جمع سود ادا ہوتا رہتا ہے اور جب مرنے کے قریب آتے ہیں تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔وہ چیز واپس بنگ کو چلی جاتی ہے۔جب میں نے پچھلی دفعہ سود پہ خطبہ دیا تھا تو بہتوں نے اس سے جان بھی چھڑائی۔اگر حقیقت میں سوچا جائے تو جو سو د کا قرض ہے وہ پھر اس طرح بڑھتا چلا جاتا ہے۔بہت سارے ایسے بھی ہوتے ہیں جو قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ڈیفالٹر بن جاتے ہیں۔جن بینکوں نے لوگوں کو قرض دیئے ہوتے ہیں جیسا کہ میں