خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 448
448 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 31 اکتوبر 2008 مسافر کو اس کا حق دو۔یعنی اپنے پیسے کے صحیح استعمال کے لئے تین حقوق اس آیت میں بتائے گئے ہیں۔اور پھر آخر میں ان حقوق کو ادا کرنے کی وجہ سے دو باتیں بیان کی گئیں کہ اس کا مفادتم کو اس طرح ملے گا کہ اللہ کی رضا حاصل کرو گے اور پھر دین ودنیا میں کامیابی حاصل کرو گے۔پس مومن ہونے کے لئے صرف منہ سے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم ایمان لائے یا ہم مسلمان ہیں یا یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں جو رزاق ہے۔ایمان کے اعلان اور صفت رزاق پر یقین کے لئے عملی نمونے دکھانے کی ضرورت ہے۔اگر اللہ تعالیٰ رزاق ہے تو جو کامل ایمان والا ہے وہ کبھی رزق کی کمی سے نہیں ڈرتا۔اس کو پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے رزق مہیا کرنے کے سامان پیدا فرما دے گا اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق کو اس کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے۔بہتر رزق پانے والا جس کے حالات بہتر ہیں، مالی حالات بہتر ہیں ، معاشی حالات بہتر ہیں دوسرے کو بھی اپنے مال میں حصہ دار بناتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔زیادہ آمدنی والا ضرورت مند کی ضرورت پوری کرتا ہے۔جس میں اپنے قریبی بھی ہیں، رشتہ دار بھی ہیں، ہمسائے بھی ہیں بلکہ مسلمان مسلمان کا جو بھائی ہے تو تمام امت کو اس کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔امیر اسلامی ممالک جو ہیں ان کو اپنے غریب ملکوں کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ ان کی ترقی کس طرح کی جائے اور پھر ہی یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صحیح حق ادا کرنا ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ اور اتِ کا جو اللہ تعالیٰ نے لفظ فرمایا (الفت سے ) اس کے لفظ میں اعزاز کے ساتھ چیز دینا شامل ہے اور پھر حق کا لفظ استعمال کر کے مزید اس کو کھول دیا کہ اعزاز کے ساتھ ان کی خدمت کرنا تمہارا فرض ہے۔یہ عطا نہیں ہے، یہ بخشش نہیں ہے، یہ خیر نہیں ہے جو تم دوسرے کو ڈال رہے ہو۔بلکہ جوزائد رقم ہے اس میں سے ان کو دینا تم پر فرض ہے۔پس اسلامی ممالک اگر اپنے غریب مسلمان ملکوں کی بہتری کا سوچتے ، اپنے تیل کے پیسے سے ان کی ترقی کی طرف توجہ دیتے ، بجائے لالچ میں آکر اپنا مال مغربی ملکوں کے بینکوں کو دینے کے اور ان سے سود لینے کے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے اور پھر فلاح پانے والوں میں ہوتے۔ان ملکوں کے کئی دفعہ بیان آتے ہیں کہ ہمارے حالات ٹھیک ہیں ان کا یہ خیال غلط ہے کہ ہمارے پاس تیل کی دولت ہے اس لئے ہمارے روپے کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ایک تو یہ کہ ان کا مغربی بینکوں میں جو روپیہ ہے یا ان اداروں میں ہے جو قرض دینے والے ہیں وہ تو بہر حال متاثر ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے ان کا روپیہ بھی متاثر ہوا۔مختصر ابتا دوں ، اس پر ہمارے بعض احمد یوں نے مضمون بھی لکھے ہیں۔بڑے اچھے مضمون ہیں۔یہاں بھی آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سارے احمدی بھی جو قرضے بینکوں سے لیتے ہیں، یہ ادارے جو قرضے دیتے ہیں، یہ تمام غیر پیداواری قرضے ہیں اور ان میں سے بہت بڑی رقم گھروں کے سامانوں کے خریدنے کے لئے ، کاروں کے خریدنے کے لئے ، گھر خریدنے کے لئے ہیں یہ سب غیر پیداواری چیزیں ہیں۔اور