خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 447

447 خطبه جمعه فرموده 31اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس یہ سب باتیں جب ہم دیکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہمارا ایمان مزید بڑھتا ہے۔اس وقت ہم احمد یوں کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کو اس بات سے ہوشیار کریں کہ ان سب آفتوں اور بحرانوں کی اصل وجہ خدا تعالیٰ سے دُوری ہے۔بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف عدم تو جنگی ہے۔دوسروں کے وسائل پر حریصانہ نظر رکھنا ہے۔پس اگر مستقل حل چاہتے ہیں تو ان چیزوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔کئی بلین ڈالرز یا کئی بلین پاؤنڈز کی جو بیل آؤٹ (Bailout) ہے یا خرچ کرنا ہے یا امداد ہے وہ مستقل حل نہیں ہے کیونکہ اگر سوچا جائے تو یہ رقم بھی اسی جیب سے نکلتی ہے جس کو پہلے ہی نقصان ہو چکا ہے۔اور آج مسلمان ممالک کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی دنیا کے معاشی نظام کی طرف چل پڑے ہیں، بجائے اس کے کہ اس سے راہنمائی لیتے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن کو راہنمائی دی ہے۔ایمانداری اور اپنے ملک سے وفا کے تعلق کی جو انتہا ہے اس کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔سربراہان مملکت صرف اپنے مفاد دیکھتے ہیں۔مشرق وسطی یا عرب ممالک جہاں تیل کی فراوانی ہے ان ملکوں نے بھی اپنی معیشت کو اس طرح نہیں چلایا جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔ایمان داری اور اس اصول پر چلنے کی وہ کوشش نہیں کی یاوہ حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا۔بے شک اپنے ملک کو ترقی دی ہے، باقی ملکوں کی نسبت اس کا انفراسٹرکچر بڑا بہتر بنالیا لیکن جیسا کہ میں نے کہا وسائل کو اس طرح استعمال نہیں کیا گیا جیسا خدا تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔مثلاً ان کے پاس اگر زائد رقم تھی اور بے تحاشا زائد رقم تھی، تیل کا اندھا پیسہ تھا تو اس رقم کو ان مغربی ممالک میں تجارت پر لگایا جہاں سے ان کو سود ملنا تھا اور وہ بھی ایسے غیر پیداواری کام پر جو صرف عارضی نفع کی چیز تھی۔یعنی بعض بینکوں کو یا بعض اداروں کور میں جمع کروائی گئیں تا کہ سود ملتار ہے۔ان اسلامی ممالک نے اپنے ملکوں میں دکھانے کے لئے گو ایک بینکاری نظام شروع کیا جسے اسلامی بینکنگ کہتے ہیں۔لیکن یہ بھی ایک شوگر کوٹڈ (Sugar Coated) قسم کی بینکنگ ہے۔ظاہر طور پر ہے کہ اسلامی بینکنگ ہے لیکن حقیقت میں وہ چیز نہیں ہے جو اسلام چاہتا ہے، جو قرآن چاہتا ہے۔کیونکہ اگر گہری نظر سے دیکھیں تو گو کہنے کو اسلامی بینکنگ ہے لیکن سود کی ایک قسم ہے جو ان کو منافع میں ملتا ہے۔بہر حال میں یہ بتارہا تھا کہ اسلامی تعلیم سے ہٹ کر انہوں نے اپنے پیسے کا استعمال کیا اور مغربی ممالک کو یہ رقم دی جس کا کوئی پیداواری مقصد نہیں ہے اور اب جب معاشی بحران آیا ہے تو یقینا ان کی رقوم کو بھی دھچکا لگا ہوگا۔ظاہر ہے جب سب دنیا متاثر ہوئی تو یہ بھی متاثر ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رزاق ہونے کا ذکر فرمایا تو مومنوں کو جو نصیحت فرمائی ہے۔میں نے سورۃ الروم کی جو آیات تلاوت کی ہیں ان میں سے دوسری آیت میں فرمایا کہ اپنے قریبی کو بھی اس کا حق دو، مسکین کو اس کا حق دو اور