خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 446
446 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرموده 31اکتوبر 2008 دنیا کو ہماری خدمات کی ہر حالت میں ضرورت ہے کیونکہ آج کے اس سائنسی دور میں اور اس جدید دور میں ان خدمات کی بہت اہمیت ہے۔بعض بڑی طاقتیں یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ ہماری معیشت اتنی زیادہ مضبوط ہوگئی ہے کہ اب ہم جلد ہی تمام دنیا کو اپنے زیر نگیں کرلیں گے گو کہ بہت سارے ملکوں کو وہ پہلے ہی ڈکٹیٹ (Dictate) کرواتے ہیں لیکن تمام دنیا پر اپنی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہی تھیں۔اُن کے خیال میں سائنس میں ہم اس حد تک ترقی کر چکے ہیں کہ اب ہمارا سائنس کے میدان میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔وسیع رقبہ اور مختلف موسموں کی وجہ سے خوراک میں ہم خود کفیل ہو چکے ہیں۔اب ہمیں کھانے پینے کی اشیاء کے لئے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔طبی میدان میں ہم نے وہ ترقیات حاصل کر لی ہیں کہ اب دنیا ہی ہے جو ہم سے سب کچھ اس میدان میں سیکھے گی۔ہتھیاروں کی دوڑ میں ہم سب دنیا سے آگے نکل چکے ہیں۔اب دنیا ہمارے تجربات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔زمین کی تسخیر کے ساتھ ساتھ ان کے خیال میں آسمانوں پر بھی ہم نے کمندیں ڈال لی ہیں اس لئے اب ہر طرح سے اس دنیا پر ہمارا قبضہ ہوسکتا ہے اور ضروری ہے کہ اب دنیا ہماری برتری تسلیم کرے اور خود بخو داپنے آپ کو ہماری جھولی میں گرا دے۔پھر بعض طاقتوں نے یہ سمجھا کہ ہمارے پاس معیشت کو کنٹرول کرنے کی جو طاقت ہے دنیا مجبور ہو کے ہم پر انحصار کرے اور اپنی مضبوط معیشت اور بعض میدانوں میں تکنیکی مہارت کے زعم میں ان لوگوں نے ایسی پلینگ (Planning) کی کہ بہت ساری اپنی صنعت ختم کر دی اور زراعت بھی برائے نام رہ گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت کی تیزی سے گرتی ہوئی حالت اور جوان کے پاس پہلے تھی ، صنعت اور زراعت ان چیزوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی معیشت بڑی تیزی سے گرنے لگی۔تو یہ سب کچھ جو دنیا میں معاشی بحران کی صورت میں ہمیں نظر آ رہا ہے اس کی اصل وجہ کی طرف اب بھی ان لوگوں کی سوچیں نہیں جار ہیں اور وہ ہے سب قدرتوں کے مالک اور رازق خدا کو حقیقی طور پر نہ ماننا۔یا ماننے کا حق ادا نہ کرنا، یہ بھی نہ ماننا ہی ہے۔یہ طاقتیں یا ملک جو معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں یا کچھ عرصہ پہلے تک مضبوط تھے اس طرف کم توجہ دیتے ہیں کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کا اپنا بھی ایک قانون چل رہا ہے۔جب ارضی و سماوی آفات ، زلزلوں اور سمندری طوفانوں یا ہری کینز (Hurricans) وغیرہ کی صورت میں یہ آفات آتی ہیں تو ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہر چیز تلپٹ ہو جاتی ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی غیر فطری طور پر جب معیشت کو چلایا گیا تو اس کے نتائج بھی سامنے آگئے۔ایک تو خدا کو بھولنے کی وجہ سے جو زمینی و آسمانی آفات تھیں، انہوں نے اپنے اثرات دکھائے۔دوسرے معیشت کے لحاظ سے بھی جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کام کئے گئے تو اس نے اپنا اثر دکھایا اور اس کے لئے اب جو حل سوچے جارہے ہیں وہ بھی کوئی ایسے دیر پا نہیں ہیں۔اصل حقیقت تک نہیں پہنچ رہے۔گو کچھ حد تک قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جواب تک حل ہیں ، لگتا ہے کہ وہ ان کو مزید الجھاتے چلے جائیں گے۔