خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 441

441 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ایک اور اخبار جو پورے جرمنی میں پڑھا جاتا ہے بہت مشہور اخبار ہے۔اس نے بھی اس کی بڑی اچھی طرح خبر دی۔آخر پر اس نے یہ بھی لکھا، یہ زائد بات ہے کہ مسجد کا نقشہ بھی ایک احمدی خاتون نے بنایا ہے اور مسجد کا نام حضرت محمد ﷺ کی بیوی کے نام پر رکھا گیا ہے۔باقی اس نے مخالفت میں کچھ نہ کچھ فقرے تو لکھنے تھے، لکھتے ہیں کہ علاقہ میں جماعت کی مخالف تنظیم کا دعویٰ ہے کہ احمد یہ فرقہ کیونکہ عورتوں پہ بہت ظلم کرتا ہے لہذا وہ اس کے خلاف ہیں۔اور ان کے نزدیک ظلم کی جو مثال دی ہے وہ یہی ہے کہ پردہ کی بڑی پابندی کروائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔جرمن ٹی وی چینل نے بھی بہت اچھی طرح خبر دی۔لکھتے ہیں جماعت نے مشرقی برلن میں مسجد تعمیر کی ہے۔اس کے افتتاح کی تقریب جمعرات شام کو منعقد ہوئی، جس میں پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر شامل ہوئے۔لندن سے ان کے سربراہ آئے۔آپ نے کہا ہم جہاں بھی جائیں لوگوں کو خدشات اور تحفظات ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم ان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔جماعت احمدیہ کا بیان ہے کہ ہم امن پسند جماعت ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہے اور واشنگٹن پوسٹ نے 16 اکتوبر کی اشاعت میں لکھا کہ سابقہ کمیونسٹ مشرقی جرمنی میں پہلی مسجد کا افتتاح۔برلن میں گنبد اور مناروں والی پہلی مسجد کا افتتاح جمعرات کے روز ہوا۔اس موقع پر پولیس نے مخالفین کو مسجد سے کچھ فاصلے پر روکے رکھا۔خدیجہ مسجد دومنزلہ عمارت ہے۔اس کا مینارہ 42 فٹ اونچا ہے۔اس موقع پر کم از کم 300 مخالفین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔جرمنی میں مسلمان زیادہ تر مغربی جرمنی میں رہتے ہیں۔ویسے تو برلن میں کم و بیش 70 مساجد ہیں لیکن زیادہ تر چھپی ہوئی اور برلن کے مغربی علاقے میں ایسی عمارتوں پر مشتمل ہیں جو بظاہر مساجد نظر نہیں آتیں۔جماعت احمدیہ کے ممبر نے کہا کہ یہ مسجد مشرقی برلن میں جو کہ کیپٹیل (Capital) ہے پہلی مسجد ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت کی حامل ہے۔حکومت نے بھی اس کا خیر مقدم کیا ہے۔برکینا فاسو سے بھی ہمارے امیر صاحب نے اطلاع دی ہے کہ فرانس کی اور برلن کی مسجد کو انہوں نے اپنے ٹی وی چینلز پر بھی دیا اور 6 اخبارات نے ایڈیٹوریل میں خاص طور پر اس کی خبر دی۔یورو نیوز جوایک مشہور یورو چین چینل ہے اس میں بھی فریج ، جرمن، انگلش اور عربی میں خبریں دی جاتی ہیں۔یہ بھی بڑا مشہور چینل ہے سارے یورپ میں سنا جاتا ہے۔اس نے بھی افتتاح کی تصویروں کے ساتھ دو تین منٹ کی خبر ما دی۔بظاہر جو حالات ہیں اس چینل تک ہمارا پہنچا ممکن نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے نشانات جو واضح اور روشن تر ہو کر اپنی شان دکھاتے ہیں انہوں نے اس کو ممکن بنا دیا۔پھر بھی اُن لوگوں کو جو اندھے ہیں حق کو سمجھنے کا خیال نہیں آتا۔عربوں کے مختلف چینلز میں گو بعض حقائق تو ڑ مروڑ کر پیش کئے گئے ہیں، خاص طور پر ہمارے عقائد کے بارے میں۔لیکن مسجد کا نام لے کر خبر دی ہے۔مخالفین کے اعتراضات تو وہی گھسے پٹے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں کہ انگریزوں کا