خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 440
440 خطبہ جمعہ فرموده 24 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم کا ) سپیگل جرمنی کا ہے، ایم ایس این بی سی امریکہ کا ہے، یوایس اے ٹوڈے، واشنگٹن پوسٹ ، ٹائمنز آف انڈیا ان سب نے خبریں دیں۔بڑے وسیع پیمانے پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعارف کا میدان کھلا ہے۔جو جرمن اور دوسری دنیا میں الیکٹرانک میڈیا میں آیا اس میں جاپان، چیک ریپبلک، پولینڈ، ہالینڈ، اٹلی ، سوئٹزر لینڈ ، فرانس اور اس طرح بہت سارے بین الاقوامی اخبارات ہیں جن میں یہ خبریں دی گئی ہیں۔ان کے علاوہ بہت ساری تعدا د لوکل اخبارات کی بھی ہے۔برلن کی سب سے مشہور اور زیادہ بکنے والی اخبار Berliner Zeitung نے سرخی لگائی کہ مسجد برداشت کا مادہ رکھتی ہے۔اور پھر انہوں نے لکھا کہ افتتاح کے موقع پر برلن کے وزیر اعلیٰ نے احمدیوں کو مسجد کی مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ یہ مسجد برداشت اور بُردباری کی علامت ہے اور اس وصف کو ترجیح دینے میں مدد دے گی۔جرمن پارلیمنٹ کے نائب صدر نے اس علاقے کے احمدیوں میں ایک دوسرے کے لئے زیادہ برداشت اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔احمدیوں کے پانچویں خلیفہ نے اپنے خطاب میں مہمانوں کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ باوجود مخالفتوں کے مسجد بنانے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے اپنے فرقہ کے لوگوں کی جرمنی سے وفاداری پر بھی یقین دلایا اور مسجد کے مخالفین کے لئے بھی دعائیہ کلمات کہے۔اسی طرح انہوں نے دعا بھی کی اور امید ظاہر کی کہ احمدیوں کو جرمن قوم کا حصہ سمجھا جائے گا۔ان کی تعداد جرمنی میں 30 ہزار ہے۔پھر ایک بہت بڑی اخبار ہے Die Nelt ، یہ جرمنی کے بڑے اخباروں میں شمار ہوتا ہے اس نے لکھا ہے کہ اسلامی تنظیموں کا مسجد کی تعمیر پر اطمینان کا اظہار۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے۔ویسے ہماری مخالفت ہوتی ہے، مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔لکھتے ہیں کہ اسلامی اداروں کی کانفرنس O۔IC کے جنرل سیکرٹری مسٹر احسان اوگلو نے کہا کہ مسجد کی تعمیر مسلمانوں کی جرمن معاشرے میں انٹیگریشن کی طرف اہم قدم ہے۔میں مسجد کے افتتاح پر خوش ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف اٹھنے والی آواز میں تمام جرمنی کی نمائندگی نہیں کرتیں۔اسی طرح انہوں نے کہا کہ جرمنی ایک آزاد ملک ہے۔اس لئے یہاں مسجد کی تعمیر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔یہ ئی مسجد جماعت احمدیہ کی ہے جس کے افتتاح کے لئے ان کے خلیفہ لندن سے آئے ہیں۔پھر ایک بہت بڑا اخبار ہے Focus Online، یہ کہتا ہے کہ ان کے لندن میں رہائش پذیر مرزا مسرور احمد نے اپنے ابتدائی خطاب میں تمام باہمت شہریوں کا شکر یہ ادا کیا جو احتجاج کے باوجود تشریف لائے۔احمد یہ جماعت ایک ایسی تنظیم ہے جو امن پسند ہے اور اسلام کے انتہا پسندوں سے بالکل مختلف ہے۔آپ نے کہا محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔MTA نے اس تقریب کو ساری دنیا میں دکھایا۔اڑھائی سومہمانوں نے شرکت کی۔پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر ضلعی میئر اور سب نے مذہبی آزادی کا دفاع کیا۔