خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 439
439 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم اور ہر مسلمان کو قانون کا پابند ہونا چاہئے۔لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا دینی جوش دیکھ کر کیتھولک اور پروٹسٹنٹ بھی مذہب کی طرف زیادہ متحرک ہورہے ہیں، مسابقت کی رو سے ترقی ہوتی ہے۔مذہب پر بھی یہ قانون اطلاق پاتا ہے۔کاش کہ آزادی کا یہ جو نظریہ ہے، سوچ ہے، یہ مسلمان بھی سمجھ سکیں اور جماعت کے بارے میں جو غلط قسم کی باتیں عوام الناس میں پھیلائی جاتی ہیں وہ بدلیں اور رواداری کی اپنے اپنے ملکوں میں خاص طور پر پاکستان میں فضا پیدا کریں۔بہر حال اخبارات اور علاقہ کی مخالفت نے افتتاح سے پہلے ہی مسجد کو اتنی شہرت دے دی تھی کہ افتتاح کے لئے خود بخود ہی رابطے ہوتے چلے گئے ہیں اور لوگوں کا تجس بھی بڑھتا چلا گیا۔جب جمعہ پڑھ کے میں نکلا ہوں تو کافی دور سے ایک جرمن عورت آئی کہ میں یہاں کی پرانی رہنے والی ہوں۔اخباروں اور ٹیلیویژن پر کل سے میں دیکھ رہی ہوں کہ ایک مسجد کا افتتاح ہے اور یہاں خلیفہ آیا ہوا ہے تو میں دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کیا ہے۔اس طرح لوگوں کو تجسس پیدا ہوا خاص طور پر وہ مجھے ملنے آئی تھی۔جمعہ سے ایک دن پہلے جمعرات کی رات کو، غیر مسلم مہمانوں کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا تھا۔اس میں جرمن پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر بھی شامل ہوئے تھے اور بھی کئی ممبر شامل تھے۔میئر تھے، ان کے خاص نمائندے تھے، ایمبسیڈر یا دوسرے سفارتکار تھے۔بعض معززین کو وہاں بولنے کا موقع بھی دیا گیا۔انہوں نے جماعت کے بارے میں بڑے عمدہ خیالات کا اظہار کیا۔آخر پر میں نے بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم اور مسجد کے حوالے سے، مسجد کی کیا اہمیت ہے اور ہماری تعلیم کیا ہے ان کو بتایا تو سارے سننے والوں نے ، شامل ہونے والوں نے ، نہ صرف غور سے سنا بلکہ ان کے چہرے کے تاثرات اور بعض موقعوں پر سر ہلانے سے لگتا تھا کہ ان کو بہت دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔یہ باتیں عجیب بھی لگ رہی ہیں اور دلچسپی بھی پیدا ہورہی ہے بلکہ بعض لوگ تو نوٹس بھی لیتے جارہے تھے۔پھر بعد میں مجھے ملے ہیں تو اس بات کا انہوں نے اظہار کیا ہے کہ اسلام کے بارے میں انہیں بہت سی نئی باتوں کا پتہ لگا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس موقع کو بھی دنیا بھر کے میڈیا نے کور (Cover) کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اور تعارف کے مزید میدان کھلے ہیں۔دنیا بھر میں تقریباً 148 اخبارات اور رسائل نے مسجد خدیجہ برلن کے افتتاح کے بارے میں خبر نشر کی ہے۔جرمنی کے علاوہ 16 ممالک کے اخبارات نے خبریں شائع کیں۔ان میں امریکہ، آسٹریا، ترکی ، بحرین، نیوزی لینڈ، انگلستان، پاکستان ، سری لنکا، کینیڈا، کویت، فرانس، سکاٹ لینڈ، انڈیا، تائیوان، سعودی عرب اور آسٹریلیا۔اور خبر رساں ایجنسیاں اور میگزین اور اخبارات میں C۔N۔N ، گوگل نیوز، گلف نیوز ، ایسوسی ایٹڈ پریس،Zimbo نیوز ایجنسی، ورلڈ نیوز نیٹ ورک، نیوز ڈے ڈاٹ کام، رائٹرز، یورو اسلام، یاہو نیوز ، انٹر نیشنل ہیرالڈ وغیرہ نے خبریں دیں۔اخبارات میں گارڈین UK نے اور اڈوئچے ویلے (جرمنی میں ) ، آئی ٹی این ، اے بی سی نیوز ( یوایس اے