خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 438

438 خطبه جمعه فرموده 24اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم ہالینڈ کے بعد پھر برلن کے لئے روانگی تھی۔5-6 گھنٹے کا سفر طے کر کے وہاں پہنچے۔برلن مسجد کا افتتاح اپنی اہمیت کے لحاظ سے تو ایک اہم موقع تھا ہی۔لیکن علاقہ کے مخالفین میں جماعت کے بارہ میں جو بڑے غلط خیالات رکھتے تھے۔(رکھتے ہیں تو نہیں کہ اب کافی حد تک صاف ہو گیا ہے ) ان کی وجہ سے امیر صاحب اور انتظامیہ بڑی پریشان تھی کہ پتہ نہیں افتتاح والے دن کیا ہو جائے گا کیونکہ ان کا ہنگامے کا پروگرام بھی تھا۔کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچنے کے لئے ، علاوہ مقامی لوگوں کے شور شرابے کے، انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی پریشانی ہوسکتی تھی ، انہوں نے احمدیوں کو پابند کر دیا تھا کہ سوائے جن کو آنے کی اجازت دی گئی ہے یا جن کو دعوت نامے دیئے گئے ہیں، اس کے علاوہ اور لوگ نہ آئیں۔ایک لحاظ سے ان کی یہ احتیاط سیح بھی تھی لیکن ضرورت سے زیادہ احتیاط کی گئی۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ایسے انتظامات فرما دیئے کہ دائیں بازو کی بڑی پارٹی جس نے مسجد کے خلاف افتتاح والے دن جلوس نکالنا تھا اس نے ایک دن پہلے اعلان کر دیا کہ ہم جماعت کے خلاف یا مسجد کے خلاف کوئی جلوس نہیں نکالیں گے۔گویا اپنی طرف سے پوری یقین دہانی کرا دی۔لیکن اخبار والوں کو اور پولیس کو باوجود اس اعلان کے یہ شک تھا کہ یہ درست بھی ہے کہ نہیں۔ان کے خیال میں اتنی جلدی یہ فیصلہ بدل نہیں سکتے تھے۔کہیں دھوکہ نہ ہو۔لیکن جب اللہ تعالیٰ فضل فرماتا ہے تو ایسی ہوا چلتی ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔جماعت کے افراد اور مبلغین تو ایک عرصہ سے غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اسلام کی حقیقی تعلیم ،مسجد کا مقصد عورت کی آزادی، یا اسلام کی شدت پسند تعلیم کا جو تصور مغرب میں ہے اس کے بارہ میں سوالات وہاں ہوتے ہیں ان کے مناسب جواب دیئے جارہے تھے لیکن ان لوگوں کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ہر روز کوئی نہ کوئی نئی بحث چل جاتی تھی۔ایک دم جو یہ کایا پلٹی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے علاوہ اس کو اور کیا کہا جاسکتا ہے۔بہر حال جہاں مخالفین نے مظاہرے کا اعلان کیا تھا وہاں شرفاء نے بھی ہمارے حق میں مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔آخر شرافت کی فتح ہوئی۔اللہ تعالیٰ اِن شرفاء کے دل مزید کھولے اور وہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو سمجھنے والے بھی بنیں۔افتتاح سے پہلے ایک اخبار نے لکھا ( ٹائیٹل اس نے لگایا کہ نوتعمیر شدہ مسجد کے لئے مبارکباد قرآن گمشده کناروں سے ہر ایک کو نظر آنے والی عمارتوں میں منتقل ہو رہا ہے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان جرمنی کا با قاعدہ حصہ بن گئے ہیں۔مبصر نے کہا کہ احمدی سنی اور شیعہ جو بھی مساجد بنا رہے ہیں ان کے خیالات ایسے ہیں جیسے C۔C۔U پارٹی کے پچاس کی دہائی کے دوران تھے۔مثلاً اگر عورت نوکری کرنا چاہے تو پہلے شوہر سے اجازت لے۔آج کے یورپ میں اور طرح طرح کے خیالات رواج پاچکے ہیں۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ مسلمان جرمنی میں جہاں کہیں بھی مسجد بنائیں ہم ان کو مبارکباد دے سکتے ہیں۔لیکن ان کو شہری فرائض سے بری الذمہ نہیں کرنا چاہئے۔ہم تو یہ چاہتے بھی نہیں۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مذہبی آزادی ہونی چاہئے