خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 437 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 437

خطبات مسرور جلد ششم 437 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 تعارف پیش کیا، ٹی وی چینل کے بارے میں بتایا۔مسجد مبارک فرانس کے اندر اور باہر کے مناظر دکھائے اور پھر آخر میں برلن مسجد کے بارے میں بتایا کہ وہاں بھی اسی طرح 17 اکتوبر کو افتتاح ہوگا۔یہ ٹی وی چینل فرانس 24، یہ بی بی سی کی طرح کا چینل ہے اور انگلش ، فریج عربی میں ساری دنیا میں دیکھا جاتا ہے، پانچوں براعظموں میں تو اس ٹیلیویژن چینل نے چار بار یہ پروگرام نشر کیا۔دو مرتبہ انگریزی زبان میں اور ایک مرتبہ فرنچ میں اور عربی زبان میں اور پھر اس نے آخر میں یہ کہا کہ آج دنیا کے سارے احمدی کہہ سکتے ہیں کہ فرانس میں Saint prix کے مقام پر ہماری مسجد موجود ہے۔اول تو ہمارے پاس اتنے ذرائع نہیں تھے کہ کروڑوں خرچ کر سکیں اور اگر ہوتے بھی تو اس طرح کوریج نہ ملتی جس طرح خود میڈیا نے آ کے کوریج دی ہے اور اس تعارف کی وجہ سے جتنے فرانکوفون ملک ہیں خاص طور پر افریقہ کے وہاں کے ٹی وی چینلز نے بھی یہ افتتاح دکھایا اور اس طرح ماریشس میں بھی۔گویا اس ایک مسجد نے دنیا کے کئی ممالک میں جماعت کا تعارف کروایا اور تبلیغ کے نئے راستے کھلے۔شام کو اس دن وہیں مسجد کے احاطہ میں ریسیپشن بھی تھی جس میں سرکاری افسران، سفارتکار اور ہمسائے وغیرہ آئے ہوئے تھے۔اخباری نمائندے بھی تھے۔وہاں مجھے اسلام کی تعلیم پیش کرنے کا موقع ملا اور بعض عورتیں اور مرد جب اسلام کے ابتدائی دنوں میں مظالم کا حال سنتے تھے جس کا میں نے ذکر کیا تو بعد میں بعضوں نے جذباتی ہو کر اس کا اظہار کیا کہ ہمیں تو آج تک کبھی بتایا ہی نہیں گیا کہ مسلمانوں پر بھی ظلم ہوا ہے۔ہمارے سامنے تو جو اسلام کا تصور پیش کیا گیا ہے وہ صرف اور صرف ظالم اسلام کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ایک جرمن سفارتکار وہاں آئے ہوئے تھے، ان سے باتیں بھی ہوتی رہیں۔کہنے لگے کہ جرمنی میں بعض نو جوانوں میں اسلام قبول کرنے کی رو چلی ہوئی ہے اور کہتے ہیں کہ میری تو یہ دعا ہے کہ اگر ان جرمنوں نے مسلمان ہونا ہے تو وہ احمدی مسلمان ہوں تا کہ کم از کم حقیقی تعلیم پرعمل کرنے والے تو ہوں۔انہوں نے بتایا کہ میں مڈل ایسٹ کے بعض ممالک میں بھی رہا ہوا ہوں۔وہ پروٹسٹنٹ ہیں لیکن کہتے ہیں کہ میں نے قرآن کریم بھی رکھا ہوا ہے اور بڑی عزت اور احترام قرآن کریم کا بھی کرتا ہوں۔بہر حال یہ تبلیغ کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور نئے نئے راستے کھل رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کے نیک نتائج بھی پیدا فرمائے۔فرانس کے بعد ہالینڈ کا جلسہ تھا، وہاں گئے۔یہاں بھی جو بلی جلسے کے حوالے سے بعض اخباری نمائندوں نے اس کی کوریج کی اور جماعت کا تعارف کافی اچھے طبقہ میں پھیل گیا جو ویسے ناممکن تھا۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو گن گن کر زندگیاں گزار دیں تب بھی وہ فضل ختم نہیں ہو سکتے۔