خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 434
434 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم پس اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کو کمال تک پہنچانا ہے اور یقیناً پہنچانا ہے تو اس کے لئے خدا تعالیٰ نے نظام خلافت آپ کی جماعت میں قائم فرمایا ہے تا کہ آپ کے سپر د جو کام کیا گیا تھا اس کی اللہ تعالیٰ تعمیل فرمائے اور جماعت کو ایک ہاتھ پر اکٹھا رکھ کر وحدت پیدا کرے تا کہ وہ ایک جان ہو کر کام کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں اور ہمیشہ بنتے چلے جائیں۔شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے منادی بنیں اور پھر ترقی کی منازل پھلانگتے ہوئے طے کرتے چلے جائیں۔پس جماعت کی ترقی جو ہم ہر آن دیکھتے ہیں اس بارہ میں کسی کے ذہن میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ ہم نے یہ یہ قربانیاں دیں تو ہمیں کامیابی ملی یا ہم نے یہ حکیم بنائی جس سے ہم نے یہ مقاصد حاصل کئے۔جماعت کی جو یہ سب کچھ ترقیات ہم ہر جگہ دیکھ رہے ہیں، بعض ملکوں میں باوجود مخالفتوں اور مشکل حالات کے یہ ترقی نظر آتی ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور وعدوں کے مطابق ہے۔اس میں ہلکا سا بھی کسی انسانی کوشش کا کمال یا دخل نہیں ہے۔اور جب تک ہم ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کے شکر گزار بندے بنے رہیں گے یہ ترقیاں ہمیں نظر آتی رہیں گی۔خدا کرے کہ ہم صدق سے خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنے رہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے اُن تمام فضلوں سے حصہ لیتے رہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے لئے مقدر ہیں۔ہر قسم کی بڑائی سے ہمارے دل و دماغ پاک رہیں۔گزشتہ دو ہفتوں میں، جو میرے سفر کے تھے، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے جو حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق دی اس کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، گزشتہ دنوں میں سفر پہ رہا ہوں اور اس دوران فرانس اور جرمنی میں مسجدوں کے افتتاح ہوئے۔ہالینڈ کا جلسہ تھا، جیم میں انصار اللہ کا اجتماع تھا ان میں شمولیت کی توفیق ملی۔فرانس میں پیرس کے بالکل قریب بلکہ پیرس شہر کا ایک حصہ ہی کہنا چاہئے شہر کا نام سینٹ پیری (Saint Prix) ہے، جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق ملی اور یہ فرانس میں ہماری پہلی مسجد ہے۔اس بارہ میں آپ سن چکے ہیں۔1924ء میں جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ انگلستان اور یورپ کے دورے پر آئے تھے تو یہاں تو مسجد فضل لندن کی بنیاد رکھی تھی اور کا نفرنس بھی ہوئی تھی جو ویمبلے کا نفرنس کے نام سے مشہور ہے۔بہر حال اس وقت جو بات میں کہنی چاہتا ہوں کہ اس دورہ کے دوران حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیرس بھی گئے تھے وہاں جماعت تو تھی نہیں لیکن بہر حال اس زمانہ میں غیر احمدی مسلمانوں کی ایک نئی مسجد حکومت کی مدد سے تعمیر ہوئی تھی اور آپ وہاں تشریف لے گئے تھے اور اُس وقت اس کی تازہ تازہ تعمیر مکمل ہوئی تھی اور اس مسجد میں آپ نے پہلی نماز ادا کی تھی یا اس مسجد کی جو پہلی نماز تھی وہ آپ نے پڑھائی تھی۔وہاں آپ کے ساتھ جو بہت سارے جماعتی بزرگ تھے، اس