خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 435
435 خطبه جمعه فرموده 24 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم قافلے میں صحابہ بھی تھے ، جن میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب بھی تھے تو آپ نے ان سب کے کچھ گروپ بنائے کہ فرانس میں تبلیغ کے لئے مختلف لوگوں اور طبقوں سے رابطے کریں۔بہر حال وہاں آپ کا مختصر قیام تھا۔ہر ایک کو جو جو کام سپرد کیا گیا تھا وہ انہوں نے کیا۔کچھ رابطے بڑھے۔لوگ ملنے بھی آتے رہے لیکن با قاعدہ جماعت تو قائم نہیں ہوئی۔بہر حال ایک جماعت کے تعارف کی وہاں بنیاد پڑ گئی۔وہاں بعد میں ہمارا مشن بھی کھلا لیکن اپنی عمارت نہیں تھی۔خلافت رابعہ میں وہاں جگہ خریدی گئی جس میں ایک گھر بھی بنا ہوا تھا اور شروع میں وہی جماعت کی مسجد تھی ، وہی مشن ہاؤس تھا۔اس کے ایک ہال میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش تو نہیں رکھتی۔پھر جماعت نے اس دور میں ہی چند سالوں بعد اس گھر کے صحن میں ایک عارضی ہال یا مسجد بنائی۔نماز اور جمعہ پڑھنے کے لئے جماعت کی تعداد زیادہ بڑھ رہی تھی۔یہاں اس وقت اس علاقہ میں جماعت کی مخالفت کی رو بھی چلی۔اس وجہ سے کہ عموماً مسلمانوں کا تاثر غلط تھا اور ان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور ایک وقت ایسا آیا جیسا کہ پہلے بھی میں بتا چکا ہوں کہ اس علاقہ کے جو میٹر تھے وہ ہماری اس عارضی مسجد میں جوتوں سمیت آگئے اور جماعت کے افراد کو بڑائر ابھلا کہا۔وہاں صفوں پر جہاں نمازیں پڑھی جاتی تھیں ان لوگوں کا جوتوں سمیت آنا جماعت کے لئے بڑا تکلیف دہ تھا۔بہر حال صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔2003ء میں اس گھر کے ساتھ ہی ایک اور گھر خریدا گیا اور پھر 2006ء میں ساتھ ہی ایک اور خریدا گیا۔اب یہ کافی بڑی جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے پاس ہے۔تین گھر اکٹھے ہیں اور ان کے پیچھے کافی بڑا مشن ہے یا جگہ ہے اور اسی وسیع جگہ میں اب جماعت نے مسجد بنائی ہے۔یہاں با قاعدہ مسجد ہے جس میں رہائش کا انتظام بھی ہے، گیسٹ ہاؤس بھی ہے ، مشنری کا گھر بھی ہے اور بڑے فنکشنز کے لئے اب وہاں بڑا کچن اور بڑا ڈائننگ ہال بھی انہوں نے بنالیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ خوبصورت مسجد وہاں بن گئی۔وہی میئر صاحب جو غیظ و غضب کی حالت میں ہماری مسجد میں آئے تھے اتنے پیار اور محبت سے جماعت کا اب ذکر کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہی شخص ہے؟ اور اگر ذکر ہو تو اپنے سابقہ رویہ پر ان کے چہرے سے شرمندگی بھی ٹپکتی ہے، افسوس بھی ہوتا ہے۔اس دن جس دن جمعہ پر مسجد کا افتتاح ہوا ہے، باجود اس کے کہ غیروں کو، مہمانوں کو شام کوفنکشن پہ بلایا گیا تھا۔یہ میئر صاحب جمعہ کے وقت تشریف لے آئے اور جب میں نے سختی کی نقاب کشائی کی اس وقت وہ بھی وہاں رہے۔پھر انہوں نے خطبہ بھی سنا اور دوسرے کمرے میں جمعہ کے دوران بھی رہے اور اخباری نمائندوں کو انٹرویو دیا کہ اب میں ضمانت دیتا ہوں کہ یہ جماعت ایسی ہے کہ نہ صرف جس سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس طرح ہے جس طرح ہم میں سے ہی ہیں اور ان کا دنیا کو خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے اور امن قائم کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ دلوں کو بدلتا اور پھیرتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔جیسا کہ میں نے وہاں اپنے خطبہ میں بھی کہا تھا کہ اب تبلیغ کا میدان کھلے گا اس لئے تیار ہو جائیں۔