خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 430
خطبات مسرور جلد ششم 430 خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 2008 ہے کہ ٹیکس کے محکمے والوں کو یقین نہیں آتا کہ کس طرح تم لوگ کر سکتے ہو۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کو پتہ ہونا چاہئے کہ مسجدوں کی تعمیر و آبادی کے ساتھ مالی قربانی کی طرف توجہ پہلے سے بڑھتی ہے۔کیوں بڑھتی ہے؟ اس لئے کہ ان کا کامل تو کل خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے جو مومن ہوتے ہیں۔وہ کسی چیز سے خوف نہیں کھاتے۔آج کل کے سودی مالی نظام چلانے والوں کی طرح انہیں یہ خوف لاحق نہیں کہ ہماری معاش کا کیا ہوگا۔ہماری آمد کا کیا ہوگا۔کیونکہ مومن کا ہر فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور اس کا خوف اور خشیت دل میں رکھتے ہوئے ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔اس لئے یہ تسلی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق، اپنی خاطر کی گئی قربانی کو کئی سو گنا کر کے نوازتا ہے اور نوازے گا۔اس لئے خوف کرنے کی ضرورت نہیں۔دنیا کے اقتصادی حالات جیسے بھی ہوں احمدی ایک قربانی کے بعد دوسری قربانی کرنے کے لئے بغیر خوف کے تیار بیٹھا ہوتا ہے اور میرے سامنے کئی مثالیں ایسی ہیں، کئی ملکوں کی مثالیں ایسی ہیں جو غریب ملک ہیں لیکن قربانیاں دیتے چلے جارہے ہیں اور ہر احمدی اپنا یہ عہد پورا کرتا ہے کہ جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہوں گا اور یہ اس لئے ہے کہ اُس کو خدا تعالیٰ نے ہدایت کا راستہ دکھاتے ہوئے مسیح و مہدی کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ کی 71 ویں آیت میں فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور دوست وہ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے حقوق ادا کر رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں مسجدوں کی آبادی انہی لوگوں سے بتائی ہے جو مومن ہیں اور مومن اخلاق میں بڑھنے والے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے ہیں۔اس دوستی سے یہ مراد نہیں کہ مرد عورتوں کی آپس میں دوستیاں ہو جائیں اور آپس کے حجاب اور پر دے ختم ہو جائیں۔بلکہ ایسے رشتے قائم ہوں جن کی بنیاد تقدس پر ہو۔ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔اب یہ اخلاق کیا ہیں جن کا ایک مومن میں پایا جانا ضروری ہے؟ اس میں آپس کے تعلقات میں محبت پیار اور بھائی چارے کو بڑھانا ہے۔محبت پیار کے یہ تعلقات اس طرح بڑھ سکتے ہیں جب شکووں، شکایتوں اور نفرتوں کی تمام دیوار میں گرادی جائیں۔جب ہر ایک یہ ارادہ کر لے کہ ہم نے ادنیٰ سے ادنی نیکی کرنے کی بھی کوشش کرنی ہے اور ہر قسم کی برائی سے بچنا ہے۔ہم نے رشتوں کے حقوق ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی ہے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد ہم نے اس عظیم رشتہ کی قدر کرنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے۔جو ایک احمدی کا احمدی کے ساتھ ہے اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ کی عظیم مثال قائم کرنی ہے۔ہم نے اپنے غریبوں کی مدد کرنی ہے اور اپنی امانتوں کے حق ادا کرنے ہیں۔ذاتی لالچ اور مفاد ہمیں ایمان میں کمزوری دکھاتے ہوئے دوسروں کے حق مارنے پر مائل نہ کرے۔ہمارا ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا جذ بہ ایسا ہونا چاہئے جس کے نمونے قرون اولیٰ