خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 431
431 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 2008 کے صحابہ میں نظر آتے ہیں جو اپنی آدھی جائیداد میں بانٹ دیا کرتے تھے۔بدظنیوں کے خلاف جہاد کی صورت ہم میں سے ہر ایک میں نظر آنی چاہئے کہ بہت سے فتنہ و فساد اور آپس کی رنجشوں کی وجہ سے یہ بدظنیاں ہیں۔سچائی کے وہ معیار ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ سچائی ہر جگہ، ہر موقع پر ہمارا طرہ امتیاز ہو۔شکر گزاری کے جذبات ہم میں اس حد تک پیدا ہو جانے چاہئیں کہ ہر آن اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں نعمتوں میں اضافے کی نوید ملتی رہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عفو اور درگز رہمارا شیوہ بن جانا چاہئے۔ہمارے عدل اور انصاف کے معیار ہر معاملے میں اتنے اونچے ہونے چاہئیں کہ وہ احسان کے راستوں سے گزرتے ہوئے ایتَاءِ ذِی الْقُرْبی کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے بے نفس ہو کر اپنے اور غیروں کی خدمت پر مجبور کرنے والے ہوں۔اپنے وعدوں کی پابندی ہمارا وہ خاصہ ہو جو ہماری پہچان بن جائے تا کہ آپس میں دوستیاں اور بھائی چارے بڑھتے چلے جائیں۔دنیا بھی آنکھیں بند کر کے ہم پر اعتماد کرنے والی ہو۔اپنے اور ایک دوسرے کے تقدس، عصمت اور عزت کی حفاظت ہر وقت ہمارے پیش نظر رہے۔مردوں عورتوں میں غض بصر کی عادت ہو اور یہ چیزیں اپنے کردار کا ہر احمدی لازمی حصہ بنالے۔احمدی عورتیں اپنے لباس، پر دے اور حجاب میں پوری پابندی کرنے والی ہوں۔اس بارہ میں بہت کانشنس ہوں۔ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف ہر وقت توجہ رہے اور ہمسایہ صرف گھریلو ہمسایہ نہیں بلکہ سفر کرنے والے بھی ہمسائے ہیں۔آپس میں کام کرنے والی جگہوں پر رہنے والے بھی ہمسائے ہیں اور پھر افراد جماعت بھی خاندان اور ہمسائے کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔گو یا تمام قسم کی اخلاقی کمزوریاں ہم میں دور ہوں گی تو ہم حق ادا کرنے والے ہوں گے اور عملی طور پر مومن کہلانے والے ہوں گے۔پھر اس آیت میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔اس کی پہلے میں وضاحت کر چکا ہوں۔زکوۃ دینے کا حکم ہے۔اور ایسے ہی لوگ ہیں جو پھر اپنے اعمال اس طرح درست کرتے ہیں کہ جو در حقیقت حقیقی مومن کے اعمال ہونے چاہئیں کیونکہ یہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والے ہیں۔گویا اس آیت میں مومن کی یہ خصوصیات بیان کی گئی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست کی حیثیت سے ایک دوسرے کا حق ادا کرتے ہیں۔جماعت ایک مضبوط جسم بن کر رہتی ہے۔وہ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں۔اور تیسری بات برائیوں سے بچتے ہیں۔وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اور نیکیوں کا حکم دینے کے بارے میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ وہ امت ہو جو انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہے۔تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو۔پھر ایمان کی نشانی یہی ہے کہ تمہارا فرض یہ بتایا گیا ہے کہ تم خیر امت بنائے گئے ہو۔اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تمہارے سے صرف وہ اعمال سرزد ہوں جو نیکیوں کی طرف لے جانے والے ہیں اور کبھی ان چیزوں کے قریب نہ جاؤ جن کی اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی ہے۔تبھی فائدہ ہو گا زمانے کے امام کی بیعت کا بھی تبھی فائدہ ہوگا عبادت گاہوں کی تعمیر کا بھی۔