خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد ششم 3 28 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 2008 فرمودہ مورخہ 18 جنوری 2008ء بمطابق 18 صلح 1387 ہجری شمس بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ۔إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرة: 130) یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی وہی مضمون ہے جو گزشتہ چند خطبوں سے چل رہا ہے۔اس میں جو آج میں بیان کروں گا تیسری بات جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا میں مانگی تھی وہ حکمت کی تھی۔یعنی وہ رسول جس پر تو کتاب اتارے، جو تیری تعلیم کو دنیا میں پھیلانے والا ہوگا ، وہ اس کی حکمت بھی سکھائے۔حکمت کے مختلف معانی ہیں، گزشتہ ایک خطبہ میں میں بیان کر چکا ہوں یعنی حکمت کے ایک معنی انصاف اور عدل کے ہیں۔حکمت کے ایک معنی علم کے ہیں، حکمت کے ایک معنی عقل اور دانائی کے ہیں اور حکمت کے معنی کسی چیز کو صحیح جگہ استعمال کرنے اور مناسب حال کام لینے کے ہیں۔اس حکمت کے لفظ کو اس عظیم رسول ﷺ اور آپ کی لائی کوئی کتاب کو جس کی تعلیم تا قیامت رہنے والی ہے آج اس حوالے سے بیان کروں گا۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ حکمت کے معنی انصاف اور عدل کے ہیں، تو اس میں یہ دعا کی گئی تھی کہ آنے والا رسول حکمت بھی سکھائے گا۔اس لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ جو رسول آنے والا ہو، وہ عدل قائم کرے گا ، عدل سکھانے والا ہو گا۔اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ اور وہ تمہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں وہ رسول مبعوث ہو چکا ہے۔کتاب بھی اس پر نازل ہو چکی ہے اور یہ ایسی کتاب ہے جو پر حکمت تعلیم سے بھری پڑی ہے۔یہ رسول تمہیں اس کتاب کی حکمت بھی سکھاتا ہے اور تا قیامت سکھاتا چلا جائے گا۔یعنی اس تعلیم نے عدل سکھایا ہے اور تا قیامت یہی کتاب عدل کی تعلیم پر مہر ہے۔اور یہ عظیم نبی جو مبعوث ہوا، نہ ہی اس کی تعلیم عدل سے خالی ہے اور نہ اس کا عمل۔بلکہ اس عظیم نبی ﷺ کا اُسوہ حسنہ بھی وہ عظیم مثالیں قائم کر رہا ہے جن تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے راستے بتا دیئے کہ اپنی اپنی انتہائی استعدادوں کے ساتھ اس اُسوہ پر چلنے کی کوشش کرو کیونکہ اس کے بغیر تم وہ معیار حاصل نہیں کر سکتے جو اس عظیم رسول کی اُمت میں رہنے والے کو حاصل کرنے چاہئیں۔آنحضرت ﷺ کی حکمت کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے جو نصائح اور عمل ہیں میں گزشتہ ایک خطبہ میں ان کا ذکر کر چکا ہوں۔آج حکمت کے معنی عدل کے حوالے سے آپ کے اسوہ حسنہ کے ایک دو واقعات پیش کرتا ہوں۔پھر آگے قرآنی تعلیم بیان کروں گا۔روایات میں آتا ہے کہ غزوہ حنین کے بعد جب اموال غنیمت تقسیم کئے جارہے تھے تو بعض عرب سرداروں کو