خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 423
423 خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم نہیں تھے لیکن ان لوگوں کی احمدیت کے لئے بے لوث خدمت کا جذبہ اور انتھک محنت انہیں وسائل نہ ہونے کے با وجود ہر جگہ متعارف کروادیتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان لوگوں کی دعاؤں کی طرف بہت توجہ تھی اور اس وجہ سے وہ جماعت کی ترقی کے بارے میں پر امید بھی بہت زیادہ تھے۔1922ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جرمنی میں مشن کے قیام کا فیصلہ فرمایا اور مولوی مبارک علی صاحب بنگالی بی اے کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ وہ جرمنی جائیں اور وہاں مشٹن کا آغاز کریں۔مولوی مبارک علی صاحب 1920ء سے لندن میں بطور مبلغ کے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر 1922ء میں وہ لندن سے برلن آگئے۔پھر آپ کی معاونت کے لئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملک غلام فرید صاحب ایم اے کو بھی جرمنی جانے کے لئے منتخب فرمایا اور وہ بھی 26 نومبر 1923ء کو قادیان سے جرمنی کے لئے روانہ ہوئے اور 18 دسمبر 1923ء کی صبح یہاں برلن پہنچے۔جرمنی پہنچ کرمحترم مولوی مبارک علی صاحب کی ابتدائی کوششوں کو خدا تعالیٰ کے فضل سے کس قدر کامیابی نصیب ہوئی۔اس کے بارہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 2 فروری 1923ء کے خطبہ میں فرمایا کہ ان کی رپورٹیں نہایت امید افزا ثابت ہوئیں بلکہ ان کو تو اس ملک میں کامیابی کا اس قدر یقین ہو گیا کہ وہ متواتر مجھے لکھ رہے ہیں کہ وہاں فوراً ایک مسجد اور مکان بنوایا جائے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ چھ ماہ میں خود وہاں چلا جاؤں۔یعنی حضرت خلیفہ اسی الثانی کو کہا کہ آپ خود وہاں آ جا ئیں جسکے نتیجہ میں نہیں جد کا میابی کی امیدہے کہ قیل عرصہ میں دنیا میں اہم تغیرات ہو سکتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو خود جرمنی جانے پہ انشراح نہیں تھا لیکن دوسری تجویز کے متعلق آپ نے فرمایا کہ ان کی اس درخواست کو کہ اس جگہ فوراً ایک مسجد اور سلسلہ کا ایک مکان بن جائے تو بہت کامیابی کی امید ہے نظر انداز کر دینا میرے نزدیک سلسلہ کے مفاد کو نقصان پہنچانے والا تھا۔اس لئے میں نے اس کے متعلق ان کو تاکید کر دی ہے کہ وہ فور زمین خرید لیں۔چنانچہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت موصول ہونے پر مولوی مبارک علی صاحب نے اس طرف توجہ دی اور فوری طور پر بران شہر میں دوا یٹر زمین خریدی گئی۔برلن میں مسجد کے لئے زمین کا انتظام ہو جانے پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 2 فروری 1923ء کو یہ تحریک فرمائی کہ مسجد برلن کی تعمیر احمدی خواتین کے چندہ سے ہو۔اس کے لئے حضور نے 50 ہزار روپیہ تین ماہ میں اکٹھا کرنے کا اعلان فرمایا۔لجنہ اماءاللہ کے قیام کے بعد یہ سب سے پہلی مالی تحریک تھی جس کا خالصتاً تعلق مستورات سے تھا۔اس تحریک میں احمدی خواتین کے صحیح نظرکو یکسر اتنا بلند کر دیا کہ ان میں اخلاص وقربانی اور فدائیت اور للہیت کا ایساز بر دست ولولہ پیدا ہوگیا کہ جس کی کوئی مثال نہیں تھی۔